ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی کی وجہ سے سنگین معاشی بحران درپیش،بینکوں میں نقد کی قلت سے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ

نوٹ بندی کی وجہ سے سنگین معاشی بحران درپیش،بینکوں میں نقد کی قلت سے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ

Wed, 30 Nov 2016 12:10:24    S.O. News Service

بنگلورو۔29؍نومبر(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ سو اور ہزار روپیوں کے نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے عوام کو ہونے والی دشواریاں دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہیں۔8نومبر کی شب نوٹوں پر لگنے والی پابندی کے تین ہفتوں بعد بھی بینکوں کے باہر قطاریں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔اب جبکہ مختلف سرکاری اور نجی کمپنیوں کے ملازمین کی تنخواہوں کا مرحلہ آچکا ہے تو بینکوں میں نقدی کی کمی کے سبب پریشانیوں میں اور اضافہ ہونے کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں۔نجی اور سرکاری ملازمین کو چونکہ تنخواہیں بینکوں سے ہی ادا کی جاتی ہیں ، بینکوں میں نقد کی کمی اور ناکارہ اے ٹی ایمس کی وجہ سے ان لوگوں کی پریشانیوں میں ابھی سے اضافہ ہوچکا ہے۔کرناٹک سمیت ملک کی تمام ریاستوں میں نقد کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ مغربی بنگال اور کیرلا نے ریزرو بینک آف انڈیا کو مکتوب لکھ کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں ریاستوں کو نوٹوں پر عائد امتناع سے مستثنیٰ کیا جائے۔ تاہم آر بی آئی کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔اس کے علاوہ اترپردیش ، دہلی ، جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں بھی اے ٹی ایمس کے باہر طویل قطاریں ، جابجا پرتشدد واقعات روز کا معمول بن چکی ہیں۔ملک کے لاکھوں اے ٹی ایمس حکومت کی طرف سے شائع کردہ نئے نوٹ مہیا کرانے کے اہل نہیں ہیں۔ ان میں تکنیکی سدھار کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔ نوٹوں پر پابندی کے بعد سے بینکوں کا عملہ دن رات جدوجہد کررہا ہے۔ لیکن اس صورتحال سے نمٹنے میں وہ بھی بے بس نظر آرہا ہے۔حالانکہ گزشتہ ہفتہ بینکوں میں نوٹوں کے تبادلے کے سلسلے کو موقوف کردیا گیا۔ اس کے باوجود بھی بینکوں میں کاروبار کیلئے قطاریں برقرار ہیں۔ نوٹوں پر پابندی کے بعد عوام بالخصوص غریب ، رعیت ، مزدور اور خواتین کو جس طرح کی لامتناہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس کی وجہ سے ہر کوئی وزیر اعظم مودی پر اپنا غصہ اتار رہا ہے۔ 8نومبر کو مودی نے نوٹوں پر پابندی کااعلان کرتے وقت 50 دن میں حالات سدھارنے کا اعلان کیاتھا، اب جبکہ 22دن کا عرصہ بیت چکا ہے، حالات سدھرنے کی بجائے اور کئی گنا بگڑتے ہی جارہے ہیں۔ماہرین معاشیات نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال اور بھی بگڑ سکتی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے 8؍ نومبر کی شب جب ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں پر پابندی عائد کی گئی تھی تو اس وقت ملک بھر میں ایک ہزار روپے کے 14لاکھ کروڑ نوٹ چل رہے تھے۔ راتوں رات ان کو ممنوع قرار دئے جانے کے بعد 2ہزار روپیوں کے نوٹ کی چھپائی کا سلسلہ فوری طور پر اگرشروع کیا گیا ہوگا تو اس کیلئے بھی کم از کم 7 لاکھ کروڑ نوٹ کی چھپائی کرنی پڑے گی۔ اس کیلئے ایک اندازے کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کو کم از کم 8 ماہ کی مدت درکار ہے۔ ان تمام تیاریوں کے بغیر مرکزی حکومت نے راتوں رات نوٹوں پر پابندی لگاکر عوام پر جو دشواریوں کا پہاڑ توڑا ہے ، ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پریشانیاں جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ملک کے معاشی نظام پر اس کے بے حد سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ جی ڈی پی میں غیر معمولی کمی واقع ہوگی۔ٹیکسوں کے ذریعہ حکومتوں کو ہونے والی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔نوٹوں پر پابندی نے جہاں صنعتی پیداوار کو مفلوج کردیا ہے وہیں رواں سال آٹو موبائل کمپنیوں نے اپنی پیداوار میں 50فیصد سے زیادہ کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی رقم حاصل کرنے کیلئے اے ٹی ایم کی قطاروں میں کھڑے لوگوں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑ رہاہے تو بینکوں کی قطاروں میں کھڑے لوگوں کو کل آنے کے مشورے کے ساتھ لوٹایا جا رہا ہے ۔ 


Share: