نئی دہلی، 23نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہوپایا اور ایک بار کے التوا کے بعد تقریبا ساڑھے 12بجے ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ایوان میں کام ملتوی کرکے قانون 56کے تحت فوری طور پر بحث کرانے کی اپوزیشن کی مانگ کو لے کرشور شرابے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بار دوپہر 12بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم کالا دھن، کرپشن اور جعلی نوٹ کے خلاف اٹھایا گیا ہے اور وہ اصول 193کے تحت بحث کرانے کو تیار ہے تاہم اپوزیشن پارٹی کام ملتوی کرکے بحث کرانے کے مطالبہ پر بضد ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کی ایوان میں موجودگی میں اس موضوع پر اپنی مانگ کی حمایت میں کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں پارٹی کے ارکان صدر کی کرسی کے قریب آکر نعرے بازی کرنے لگے۔کانگریس ارکان اپنے ہاتھوں میں بڑا بینر لیے ہوئے تھے جس پر نوٹ بندی کی مخالفت میں نعرے وغیرہ لکھے ہوئے تھے۔لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے ارکان سے اپنی جگہ پر جانے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ بینر دکھانا قوانین کے خلاف ہے۔پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ حکومت تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن اس طرح سے بینر، پوسٹر دکھانا کانگریس جیسی پارٹی کے لئے ٹھیک نہیں ہے جس نے ملک پر 50سال سے زیادہ وقت تک حکومت کی۔اننت کمار نے کہا کہ نوٹ بندی پر ایک دو یا تین دن بھی بحث کی جا سکتی ہے، ہم اس کے لئے تیار ہیں لیکن اس طرح سے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش، اروناچل پردیش، آسام کے کل آئے ضمنی انتخابات کے نتائج میں ہمیں مینڈیٹ ملا ہے اور یہ نوٹ بندی کے حق میں جاتا ہے۔کانگریس کو مینڈیٹ سمجھنا چاہئے اور بحث کرنا چاہئے۔تاہم، اپوزیشن جماعتوں کا شور شرابہ جاری رہا۔صدر نے وقفہ سوال کی کارروائی چلانے کی کوشش کی لیکن نظام قائم نہیں ہوتے دیکھ انہوں نے ایوان کی کارروائی 12بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔