نئی دہلی:17/دسمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بھارتی ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہاہے کہ نوٹ بندی نے ہندوستانی معیشت کی رفتار کم کر دی۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ عالمی معیشت اضافہ درج کر رہی ہے، بھارت کی مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی ترقی کی شرح نوٹ بندی کی وجہ سے قابل ذکر طور پر متاثر ہوئی ہے۔راجن نے کہا کہ انہوں نے ایسے ریسرچ دیکھے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ نومبر، 2016 میں نوٹ بندی سے بھارت کی ترقی کی شرح پر قابل ذکر اثر پڑا۔رگھورام راجن نے کہاہے کہ خالص طور پر میری رائے ہے کہ نوٹ بندی نے ہماری معیشت کومتاثرکیاہے۔اب میں نے ایسے ریسرچ دیکھے ہیں جن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ہماری ترقی کی شرح سست پڑی ہے۔راجن نے پیر کو ایک نیوز چینل سے انٹرویو میں کہاہے کہ عالمی معیشت میں2017 میں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہوا، ہماری معیشت سست پڑی۔انہوں نے کہا کہ صرف نوٹ بندی ہی نہیں، جی ایس ٹی کولاگو کرنے سے بھی ہماری معیشت پر اثر پڑا۔مالی سال 2017۔18 میں بھارتی معیشت کی ترقی کی شرح 6.7 فیصد رہی۔سابق آر بی آئی گورنرنے کہاہے کہ نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے ڈبل اثرات سے ہماری ترقی کی شرح متاثر ہوئی۔کوئی مجھے جی ایس ٹی مخالف قرار دے، اس سے پہلے میں کہنا چاہوں گا کہ طویل مدتی لحاظ سے یہ اچھا خیال ہے۔مختصر مدت میں اس کااثر پڑاہے۔جی ایس ٹی پر تفصیل سے اپنی رائے رکھتے ہوئے راجن نے کہا کہ اس اصلاحی ٹیکس نظام کو مزید بہتر طریقے سے لاگو کیا جانا چاہیے تھا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جی ایس ٹی میں5 مختلف سلیب کی بجائے ایک ٹیکس سلیب ہونی چاہیے تھی، راجن نے کہا کہ یہ بحث کا موضوع ہے۔بینکوں کے ساتھ گھپلے بازی کرنے والوں کی فہرست کے بارے میں راجن نے کہا کہ ایک فہرست تھی، جس میں بڑے بڑے گھوٹالے بازوں کے نام تھے۔وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کو سونپی گئی بڑے لون ڈیفالٹروں کی فہرست کے بارے میں راجن نے کہاہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ معاملے اب کہاں ہیں۔ایک بات کو لے کر میں فکر مند ہوں کہ اگر ایک کو چھوٹ ملتی ہے تو اور دوسرے بھی اسی راہ پر چل سکتے ہیں۔