ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی انتظامیہ کی بڑی ناکامی ہے:منموہن سنگھ

نوٹ بندی انتظامیہ کی بڑی ناکامی ہے:منموہن سنگھ

Fri, 25 Nov 2016 10:48:30    S.O. News Service

نئی دہلی، 24؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)راجیہ سبھا میں نوٹ بندی کے فیصلے پر بحث کو لے کر پانچ دنوں سے بنا تعطل آج کچھ وقت کے لئے دور ہوا جس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے حکومت پر اپوزیشن کے حملے کی قیادت کرتے ہوئے اس قدم کو انتظامیہ کی بڑی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ اس سے جی ڈی پی ترقی میں کم از کم دو فیصد کی کمی آئے گی۔منموہن نے نوٹ بندی کو منظم اور قانونی لوٹ کھسوٹ کا معاملہ بھی بتایا۔وزیر اعظم نریندر مودی کے آج ایوان میں آنے کی وجہ سے اپوزیشن اور بینچ کے درمیان یہ اتفاق ہوا کہ وقفہ سوال کے بجائے نوٹ بندی کے معاملے پر 16نومبر کو ادھوری رہ گئی بحث کو آگے بڑھایا جائے۔ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی بحث میں شرکت کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ پانچ دنوں سے اپوزیشن اس بحث کو ایوان میں وزیر اعظم کی موجودگی میں کرانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔مودی آج سوال کے دوران ایوان میں آئے تھے کیونکہ جمعرات کو ان کے تحت آنے والی وزارتوں سے متعلق زبانی سوال پوچھے جاتے ہیں۔ایوان میں آج بحث دوپہر بارہ بجے بحال ہوئی اور ایک بجے تک جاری رہی،اس کے بعد ایوان میں وقفہ ہو گیا،اجلاس کے بعد شروع ہونے پر ایوان میں وزیر اعظم کے نہ ہونے کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے انہیں بلانے کا مطالبہ پھر شروع کر دیا۔اس پر ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے کہا کہ ایوان کے لیڈر یہ یقین دہانی دے چکے ہیں کہ وزیر اعظم بحث میں شرکت کریں گے۔اس پر جیٹلی نے کہا کہ ان کا یہ خدشہ سچ ثابت ہو گیاہے کہ اپوزیشن بحث نہیں چاہتا کیونکہ وہ بحث سے بچنے کے لئے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ایوان میں ہنگامہ قائم رہنے پر کورین نے شام تین بج کر قریب 10منٹ پر اجلاس کو پورے دن کے لیے ملتوی کر دیا۔

اس سے پہلے بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نوٹ بندی کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جس طرح سے اس کا اطلاق کیا گیا ہے، وہ انتظامیہ کی بڑی ناکامی ہے اور یہ منظم اور قانونی لوٹ کھسوٹ کا معاملہ ہے،ایوان میں مودی کی موجودگی میں انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے مجموعی ملکی پیداوار میں دو فیصد کی کمی آئے گی جبکہ اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ایک عملی، تخلیقی اورپرامید حل نکالیں جس سے عام آدمی کو نوٹ بندی کے فیصلے سے پیدا حالات کے سبب ہو رہی مصیبت سے راحت مل سکے۔انہوں نے کہا کہ جو حالات ہیں ان میں عام لوگ انتہائی مایوس ہیں۔سنگھ نے کہا کہ زراعت، غیر منظم علاقے اور چھوٹی صنعت نوٹ بندی کے فیصلے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور لوگوں کا کرنسی اور بینکنگ کے نظام پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حالت میں انہیں لگ رہا ہے کہ جس طرح اسکیم نافذ کی گئی، وہ انتظامیہ کی بڑی ناکامی ہے،یہاں تک کہ یہ تو منظم اور قانونی لوٹ کھسوٹ کا معاملہ ہے۔سنگھ نے کہا کہ ان کا ارادہ کسی کی بھی خامیاں بتانے کا نہیں ہے لیکن مجھے بھی پوری امید ہے کہ دیر سے ہی سہی، وزیر اعظم ایک عملی، تخلیقی اور پرامید حل تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں گے تاکہ اس ملک کے عام آدمی کو ہو رہی مشکلات سے راحت مل سکے۔انہوں نے کہا کہ میری اپنی رائے ہے کہ قومی آمدنی، جو کہ اس ملک کا مجموعی گھریلو مصنوعات ہے، اس فیصلے کی وجہ سے دو فیصد کم ہو سکتی ہے،اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے،اس لئے مجھے بھی لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو کوئی تخلیقی تحریک لانا چاہئے کہ ہم منصوبہ بندی کا نفاذ کیسے کر سکیں اور ساتھ ہی عام آدمی کے ذہن میں گھر کر رہی بداعتمادی کو کیسے دور کریں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس فیصلے کا حتمی نتیجہ کیاہوگا، اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا لیکن وزیر اعظم نے 50دن تک انتظار کرنے کے لئے کہا ہے۔ویسے تو 50دن کا وقت بہت کم وقت ہے لیکن غریبوں اور معاشرے کے کمزورطبقے کے لئے 50دن کسی تشدد سے کم نہیں ہیں،اب تک تو تقریبا 60سے 65لوگوں کی جان جا چکی ہے،شاید یہ اعداد و شمار بڑھ بھی جائے۔


Share: