نئی دہلی، 21؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )نوٹ بند ی اور کل کے ریل حادثے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی پر زوردار حملہ بولتے ہوئے بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ وہ اس کے لیے وزیر اعظم مودی کی سرمایہ دارانہ سوچ اور طریقہ کار کو ذمہ دار مانتی ہیں اور عوام سب دیکھ رہی ہے اورریاستی اسمبلی انتخابات اور 2019کے لوک سبھا انتخابات میں انہیں سبق سکھائے گی ۔پوکھرایاں میں ریل حادثہ کو لے کرمرکزی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے مایاوتی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں نامہ کہاکہ یہ جو کچھ کل ہوا ہے، وہ مرکزکی موجودہ حکومت کی طرف سے ریلوے پٹریوں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہوا ہے، میں اس کے لیے ریلوے کے وزیر کو نہیں بلکہ وزیر اعظم مودی کی سرمایہ دارانہ سوچ اور طریقہ کار کو ذمہ دار مانتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی کی قیادت میں مرکز میں این ڈی اے حکومت بنی ، تبھی میں نے کہا تھا کہ اب غریب، محنت کش اور متوسط طبقہ کی حالت بہت خراب ہونے والی ہے۔درمیا ن میں مودی حکومت نے عوامی مفاد کے نام پر کئی فیصلے لئے لیکن مفاد عامہ کی آڑ میں اپنے چہیتے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا۔بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بلٹ ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا اور اس پر اربوں کھربوں روپے خرچ کر رہی ہیں لیکن ریل بنیادی ڈھانچہ اور پٹریوں وغیرہ کی بحالی اور مرمت پر توجہ نہیں دی ۔انہوں نے کہا کہ یہ بلٹ ٹرین احمدآباد سے ممبئی تک چلائی جائے گی۔احمد آباد گجرات میں ہے جبکہ گجرات کے تاجر ممبئی کاروبار کرنے جاتے ہیں، ایسے میں بلٹ ٹرین صرف سرمایہ داروں کو ذہن میں رکھ کر چلائی جا رہی ہے۔
مایاوتی نے کہا کہ بلٹ ٹرین پر خرچ ہونے والا اربوں کھربوں روپیہ اگر ریلوے کی سہولیات اور سیکورٹی پر خرچ ہوتا تو اس طرح کے ٹرین حادثات نہیں ہوتے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پورے ملک کی عوام بے حال ہے اور اگر آپ وزیر اعظم کا مزاج دیکھیں تو آپ کے سامنے واضح ہو جائے گا کہ جب غریب، محنت کش اور متوسط طبقہ کو تکلیف ہوتی ہے ،تب انہیں خوشی ہوتی ہے اور جب سرمایہ داروں کو خوشی ملتی ہے ، اس کے بعد وزیر اعظم اور خوش ہو جاتے ہیں۔مایاوتی نے کہا کہ کل وزیر اعظم آگرہ میں پریورتن ریلی میں گئے تھے، وہاں انہوں نے گزشتہ حکومت کے اندرارہائش گاہ منصوبہ پر لیپا پوتی کرکے ایک نیا منصوبہ پیش کر دیا ، لیکن آگرہ سے کچھ ہی گھنٹے کے فاصلے پر کانپور دیہات نہیں گئے جہاں ریل حادثہ پیش آیا تھا، اگر وزیر اعظم وہاں جاتے تو لوگوں کے زخموں پر مرہم لگتا۔انہوں نے کہا کہ ریل میں غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ سفر کرتے ہیں، لیکن انہیں تحفظ اور سہولیات نہیں مل رہی ہے۔بی ایس پی سپریمو نے کہاکہ بی جے پی حکومت کو یہ مہنگا پڑے گا۔2019کے لوک سبھا انتخابات اور اس سے پہلے ریاستی اسمبلی انتخابات میں عوام انہیں سبق سکھائے گی ۔انہوں نے کہا کہ 500روپے اور 1000روپے کے نوٹ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ دعوی کیا گیا کہ 10ماہ سے تیاری چل رہی تھی، جب اتنے عرصے سے تیاری چل رہی تھی تو پھر عوام کو اتنی پریشانیاں کیوں اٹھانی پڑرہی ہے ؟ مایاوتی نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم مودی نے نوٹ بند ی کا فیصلہ اپنے چہیتے سرمایہ داروں کی بلیک منی ، اپنی پارٹی اور لیڈروں کی بلیک منی کو ٹھکانے لگانے کے لیے کیاہے اور اب 50دن مزید مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام اتنی بے وقوف نہیں ہے، وہ سب سمجھتی ہے۔مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے ایک چوتھائی انتخابی وعدے پورے نہیں کئے اور عوام کو الجھانے کام کر رہی ہے، عوام انہیں سبق سکھائے گی ۔