نئی دہلی، 22/نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) نوٹ بند ی کے فیصلے کا اعلان کرنے کے دو ہفتے بعد آج سیاسی لڑائی اور تیز ہو گئی ہے جس میں متحدہ اپوزیشن نے آج بدھ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بی جے پی نے اسے نوٹ بند ی کے فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کی طرف سے شبیہ خراب کرنے کی کوشش قراردیا ہے۔مودی حکومت کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ دہلی میں دھرنا دیں گی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ سڑکوں پر اپنا احتجاج درج کرائیں۔ وہیں بی جے پی صدر امت شاہ نے اپوزیشن پارٹیو ں کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نوٹ بندی کا ہدف بدعنوانی ہے اور جن لوگوں کے پاس بلیک منی ہے وہی اس فیصلے سے فکر مند ہیں۔ دوسری طرف، دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا اور ان کے کابینی ساتھی کپل مشرا کو آج اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ نوٹ بند ی کی مخالفت میں جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔مارچ کے آغاز سے پہلے سسودیا نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو رلا رہے ہیں اور مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔اپوزیشن پارٹیوں پر نوٹ بند ی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث سے فرار اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ وہیں بی جے پی کی اہم اتحادی شیوسینا نے بھی بی جے پی کے خلاف احتجاج تیز کر دیاہے، پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہاکہ بی جے پی کو لوگوں کو محب وطن یاغدارکے طورپرتقسیم بند کرنا چاہیے۔