حیدرآباد 20/دسمبر (ایس او نیوز) ابتدا میں نوٹ بندي کی حمایت کرنے والے بی جے پی کی اتحادی جماعت تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندر بابو نائیڈو نے اب کہا ہے کہ 40 سے زیادہ دن گزر جانے کے باوجود نوٹ بندی سے پیدا مسئلہ کا حل اب بھی نظر نہیں آرہا ہے.
چندر بابو نے وجئے واڑہ میں اپنی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی، قانون سازی کونسلر اور دیگر رہنماؤں کے ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، 'ہم نے نوٹ بندي کی خواہش نہیں کی تھی، لیکن یہ ہوا. نوٹ بندي کے 40 دن سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی ڈھیر ساری پریشانیاں ہیں، لیکن اب بھی حل نظر نہیں آرہا ہے. ' چندر بابو نائیڈو نوٹ بندي پر غور کرنے کے لئے بنی 13-رکنی مرکزی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں.
آندھرا کے وزیر اعلی نے کہا کہ لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات کی چیزیں خریدنے کے لئے نئی کرنسی نہیں مل رہی ہے اور بینک اور اے ٹی ایم میں روزانہ کیش کی قلت دیکھی جا رہی ہے. انہوں نے کہا نوٹ بندي کی وجہ سے ہو رہی پریشانیوں کو کم کرنے کے بارے میں میں روزانہ دو گھنٹے وقت دیتا ہوں. میں روز اپنا سر پھوڑتا ہوں، لیکن ہم اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنے میں ناکام ہیں.
ٹی ڈی پی کے کئی رہنماؤں نے بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ لوگوں کو اتنی زیادہ مشکلات جھیلنی پڑی ہے کہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم مودی کو اس اقدام کا برا سیاسی نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔
نوٹ بندي کے معاملے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ اور اس کے باہر حکومت کو گھیرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نوٹ بندي کو لاگو کرنے کے طریقے میں حکومت نے غلطی کی، جس سے بدعنوانوں کی جگہ غریبوں اور عام لوگوں کو پسنا پڑ رہا ہے.
تاہم بی جے پی کا کہنا ہے کہ مختلف ریاستوں میں حالیہ مقامی بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات میں ہوئی جیت سے صاف ہے کہ لوگ پریشانیوں کے باوجود نوٹ بندي کی حمایت کر رہے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف حکومت کے سخت اقدامات کی تعریف کر رہے ہیں.