بنگلورو،4؍ستمبر(ایس او نیوز) وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کہا ہے کہ بیپنا ہلی اور پینیا میٹرو ریل ڈپوز میں شمسی توانائی کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نما میٹرو کی طرف سے مسافروں کی سہولت کیلئے موبائل ایپ جاری کرتے ہوئے میٹرو پر کام کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور معذور مسافروں کی سہولت کیلئے وہیل چیر کا اجراء کرنے کے بعد کے جے جارج نے بتایاکہ مرکزی حکومت سے بات چیت کرنے کے بعد میٹرو ریل ڈیوز میں شمسی توانائی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہاکہ اگلے ماہ میجسٹک میں میٹرو سرنگ کا کام مکمل ہوجائے گا۔آئندہ اپریل تک نما میٹرو کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ جلد ازجلد اس پراجکٹ کو پورا کیا جائے، تاکہ عوام کی سہولت کیلئے دوسرے مرحلے آگے بڑھائے جاسکیں۔انہوں نے کہاکہ کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایرپورٹ کو میٹرو سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں حکومت کو1300 الگ الگ مشورے موصول ہوئے ہیں، جن میں سے حکومت نے 9 روٹس کاانتخاب کیا ہے۔ مرحلہ وار اس میں سے ایک روٹ کو منظوری دی جائے گی۔ مسٹر جارج نے بتایاکہ 17 یا 18نومبر سے جئے نگر کی طرف ایک پٹری پر میٹرو ٹرین کا سفر شروع ہوجائے گا۔ اس روٹ پر دوسری پٹری بچھانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ دوسری پٹری بچھائے جانے کے بعد یہاں میٹرو خدمات حسب معمول چلیں گی۔ میٹرو دوسرے مرحلے کے تحت سلک بورڈ جنکشن سے کرشنا راج پورم تک میٹرو لائن کی تعمیر کے منصوبے کو کابینہ میں رکھا گیا ہے، جلد ہی اسے منظوری ملنے کا امکان ہے۔ اس موقع پر نما میٹرو کے منیجنگ ڈائرکٹر پردیپ سنگھ کھرولہ نے بتایا کہ میٹرو ریل میں مسافروں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے اگلے ہفتے سے ہر چار منٹ کی بجائے ہر تین منٹ میں ایک ٹرین دوڑانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میٹرو ریل پراجکٹ کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ 50 لاکھ مسافر میٹرو خدمات حاصل کرسکیں گے۔