ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نقدی کے سخت بحران کے درمیان انتخابی تیاریوں میں لگے اتر پردیش میں '5 ہزار کروڑ' روپے کی نقدی کس طرح پہنچی ؟ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ

نقدی کے سخت بحران کے درمیان انتخابی تیاریوں میں لگے اتر پردیش میں '5 ہزار کروڑ' روپے کی نقدی کس طرح پہنچی ؟ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ

Sun, 25 Dec 2016 04:01:44    S.O. News Service

گورکھپور24/ دسمبر (ایس او نیوز/ این ڈی ٹی وی) مشرقی اترپردیش کے بانسگاوں میں بی جے پی رہنما کملیش پاسوان اے ٹی ایم کی لائن میں پہنچتے ہیں. ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہاں گزشتہ دنوں نوٹوں کی قلت کم ہوئی ہے کیونکہ نئی نقدی آئی ہے. ایک بی جے پی کارکن کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے 1650 کروڑ روپے ضلع میں آئے تھے اور اب بینک نے پیسے نکالنے کی حد 50 ہزار روپے تک کردی ہے. اس علاقے کے باقی حصے سے بھی ہمیں نئی ​​کرنسی کے آنے سے منسلک ایسی ہی خبریں سننے کو ملیں.

جب ہم نے اس دعوے کی تصدیق کرنے کے لئے بی جے پی لیڈروں سے پوچھا تو انہوں نے گزشتہ دنوں مقامی اخبارات میں شائع خبروں کا حوالہ دیا. اتفاق سے یہ انہی دنوں کی بات ہے جب پی ایم مودی نے یوپی میں انتخابی مہم چھیڑ رکھی تھی. حالانکہ اس سے جڑی ایک محض میڈیا رپورٹ 17 دسمبر کی ہے جو کہ خبر ایجنسی IANS کی طرف سے شائع ہوئی ہے جس کے مطابق یوپی میں 5 ہزار کروڑ روپے، ایک خاص پلین کے ذریعے ریزروبینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بھیجے ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ اطلاع ایک افسر سے ملی ہے جس کا نام نہیں بتایا جا سکتا.

جب NDTV نے آر بی آئی سے رابطہ کیا تو ان کے ترجمان نے صفائی دی کہ بینک یہ معلومات دیتا ہی نہیں ہے کہ کونسی ریاست میں کتنی نقدی پہنچائی جا رہی ہے. اس کے باوجود مقامی بی جے پی رہنما اس بات کی طرف اشارہ کرتے رہے کہ آر بی آئی پر سیاسی دباؤ تو بنایا جا رہا ہے. یوپی کے فیض آباد سے بی جے پی رہنما للو سنگھ کہتے ہیں 'ہماری پارٹی کے صدر (امت شاہ) ہم سے ملے اور انہوں نے تمام ممبران پارلیمنٹ سے رائے لیا ہے.' للوسنگھ کہتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی رہنما سے عرض کیا تھا کہ زیادہ نقدی بھیج کر لوگوں کے مسائل دور کریں گے.

للو سنگھ نے کہا 'ہم نے امت شاہ سے کہا تھا کہ آر بی آئی سے پیسے ٹرانسفر کرنے کے عمل میں تھوڑی اور تیزی ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو زیادہ دقت پیش نہ آئے. انہوں نے کہا تھا کہ اس سے منسلک تمام تیاریاں کر لی گئی ہیں اور پیسہ بھیج دیا جائے گا. ' تاہم زمینی سطح پر معاملہ کچھ اور ہی نظر آتا ہے. گورکھپور سے دو گھنٹے کے فاصلے پر كونڈيا گاؤں ہے جہاں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی ) کے باہر صبح چار بجے سے خواتین لائن میں لگی ہوئی ہیں.  ہم ان سے آٹھ گھنٹے بعد دوپہر میں ملتے ہیں، وہ اب بھی وہیں کھڑی ہیں. ان میں سے ایک کا دعوی ہے کہ بینک کے عملے نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے. ایک خاتون کہتی ہے 'کل منیجر نے مجھے دھکا دیا اور میرا گلا پکڑ لیا.' وہیں کچھ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں حالات تھوڑے سدھرے ہیں لیکن ابھی بھی مکمل نقدی نہیں مل پا رہی ہے.

تھوڑی دیر بعد کیش کا ایک بوکس بینک کی شاخ پر پہنچتا ہے. لیکن یہ واضح نہیں ہو پاتا ہے کہ کیا نقدی کی اس آمد کی وجہ اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناؤ ہے. تاہم عوام کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا، وہ تو بس اپنے حصے کی نقدی جلد سے جلد اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں. مقامی بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انتخابات کی وجہ سے متعصب رویے کا الزام لگانا غلط ہے. بانسگاو کے ایم پی کملیش پاسوان کا کہنا ہے کہ 'اگر گورکھپور کے لئے نقدی آئی ہے تو ظاہر ہے یہ پورے ملک میں بھی پہنچے گی.'
 


Share: