ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نرملا سیتارمن ملک کی وزیر خزانہ رہنے کی اہل نہیں : سدارامیا 

نرملا سیتارمن ملک کی وزیر خزانہ رہنے کی اہل نہیں : سدارامیا 

Tue, 30 Jul 2024 12:08:50    S.O. News Service

بنگلورو، 30/ جولائی (ایس او نیوز ) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا  سیتارمن اپنے عہدے کے لئے اہل نہیں  ہیں، ان کو وزارت سے برطرف کردیا جانا چاہئے۔ اپنے ایک اخباری بیان میں سدارامیا نے کہا کہ بجٹ کے بنیادی  اصولوں سے نا واقف نرملا سیتارمن کو ملک کی وزیر خزانہ مقرر کیا جانا ملک کے لئے ایک المیت سے کم نہیں ہے۔

 انہوں نے اتوار کے روز ایک اخباری کانفرنس کے دوران نرملا سیتارمن کے دعوے پر کہ بجٹ میں کرناٹک  کو بہت زیادہ فائدہ پہنچایا گیا ہے، غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت سے کرناٹک کے ساتھ جو ناانصافی ہورہی ہے، اس پر پردہ ڈال کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک سے متعلق نرملا سیتارمن نے جو جھوٹے دعوے کئے ہیں  اس کے جال میں وہ خود پھنس گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نرملا سیتارمن نے جو جھوٹے دعوے کئے ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ کرناٹک  کو مرکزی بجٹ میں خالی لوٹا ہی ملا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ نرملا سیتارمن کا دعویٰ ہے کہ یو پی اے کے دوراقتدار میں 10 سال کے دوران کرناٹک کو 2.36 لاکھ روپئے کے گرانٹ ملے۔ مودی حکومت کے 10 سال میں جنتی رقم دی گئی ہے اگر بجٹ کے حجم کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے نے کہا مرکزی حکومت کی طرف سے ریاست ٹیکسوں کی جو حصہ داری دی جارہی ہے وہ یوپی اے حکومت میں بجٹ کے حجم کا 1.9 فیصد تھی جواب گھٹ کر 1.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ٹیکسوں کی شکل میں کرناتک سے 2.9 لاکھ کروڑ رپئے کی رقم ادا کی گئی ہے لیکن کرناٹک کو اس میں سے محض 81791 کروڑ روپئے ہیں واپس ملے۔ 

14 ویں مالیاتی کمیشن نے کرناٹک کی ٹیکس حصہ داری کی جو شرح 4.2 فیصد مقرر کی تھی اس کو مرکزی حکومت نے گھٹا کر 3.6 فیصد کردیا، اس سے کرناٹک کو 62 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ جی ایس ٹی کی ادائیگی میں کرناٹخ  ملک میں سرفہرست ہے، مرکزی حکومت کی طرف سے سال 18-2017 سے اب تک کرناٹک کی جی ایس ٹی حصہ داری میں 59274 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ کرناٹک کے باہری رنگ روڈ اور بنگلورو کے تالابوں کی صفائی کیلئے 15 ویں مالیاتی کمیشن نے 3 ہزار کروڑ روپئے دینے کی سفارش کی تھی لیکن مرکزی حکومت نے اس کو مسترد کردیا، اس سے ریاست کے ساتھ 11 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کا دھوکہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ نہ صرف کرناٹک بلک ملک کی ہر وہ ریاست جہاں اپوزیشن پارتیوں کی حکومتیں ہیں مودی حکومت نے ان کے ساتھ کھلی نا انصافی کی ہے۔ 


Share: