ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نجی عمارتوں کو اثاثہ ٹیکس میں رعایت پر اعتراض

نجی عمارتوں کو اثاثہ ٹیکس میں رعایت پر اعتراض

Wed, 21 Dec 2016 11:51:58    S.O. News Service

بنگلورو۔20؍دسمبر(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے بعض نجی اسکولوں کو اثاثہ ٹیکس میں دی گئی رعایت پر آج بی بی ایم پی کونسل اجلاس میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔کونسل کے اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے بعض نجی اسکولوں کو ٹیکس میں دی گئی رعایت کے جواز پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہاکہ بی بی ایم پی انتظامیہ کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ کن معیارات کی بنیاد پر ان اسکولوں کو ٹیکس سے چھوٹ دی گئی، جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے دفاتر سے بھی باقاعدہ اثاثہ ٹیکس وصول کیاجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ شہر بھر میں 275نجی اسکولس ، 32 عبادتگاہوں ، 7اسپتالوں اور دیگر 80 عمارتوں کو اثاثہ ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے، لیکن کس بنیاد پر یہ رعایت دی گئی ہے واضح نہیں ہوپایا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہر بھر کے تمام نجی اسکولس لاکھوں روپیوں کا ڈونیشن اور فیس وصول کرتے ہیں ایسے اداروں کو اثاثہ ٹیکس کی رعایت کوئی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہاکہ شہر میں مرکزی وریاستی حکومتوں کے دفاتر کیلئے جو بی بی ایم پی عمارتیں لی گئی ہیں ان کا کرایہ برسوں سے باقی ہے اور ان کی اپنی عمارتوں کا اثاثہ ٹیکس بھی وصول نہیں کیا گیا ہے۔ ان میں محکمۂ انکم ٹیکس کا دفتر بھی شامل ہے۔بی بی ایم پی افسران ان عمارتوں سے اثاثہ ٹیکس کی وصولی کرنے میں کیوں لاپرواہی برت رہے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی مزید 25 فیصد عمارتوں کو تجارتی زمرے میں لانے کی پہل کی جانی چاہئے۔ پدمانابھا ریڈی کے ان خیالات سے میئر جی پدماوتی نے اتفاق کیا اور افسران کو سخت ہدایت دی کہ اثاثہ ٹیکس کی وصولی میں کسی بھی طرح کی رعایت نہ برتی جائے ،بلکہ سختی سے اثاثہ ٹیکس وصول کیا جائے۔ 


Share: