ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نائیس گھپلے کی سی بی آئی جانچ کرانے ایوان کمیٹی کی سفارش

نائیس گھپلے کی سی بی آئی جانچ کرانے ایوان کمیٹی کی سفارش

Sat, 03 Dec 2016 12:45:08    S.O. News Service

بنگلورو۔2؍دسمبر(ایس او نیوز) نائیس گھپلے کے سلسلے میں جانچ کرنے والی ایوان کمیٹی کی رپورٹ آج ایوان میں پیش کردی گئی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نائیس گھپلے میں چونکہ متعدد غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں اسی لئے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی یا اس کے مساوی کسی اور ایجنسی کے ذریعہ کرائی جائے۔ آج ایوان میں پیش کی گئی 392صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائیس کمپنی نے حکومت سے جو معاہدات کئے تھے ان میں بڑے پیمانے پر پامالیاں ہوئی ہیں۔کمپنی نے اپنے طور پر منصوبے کے پارٹنرس کا تعین کیا ہے، جبکہ اس معاملے میں حکومت بھی ایک اہم پارٹنر تھی، لیکن کمپنی نے اس سلسلے میں حکومت سے منظوری نہیں لی ہے۔ وزیر برائے قانون وپارلیمانی امور ٹی بی جئے چندرا نے یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی۔انہوں نے بتایاکہ کمیٹی نے اپنی 27 میٹنگوں کے بعد رپورٹ کو تمام دستاویزات کا بغور جائزہ لے کر مرتب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4؍ ستمبر 2014کو یہ کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے پایا کہ اس پراجکٹ کو لاگو کرنے کیلئے حکومت سے جو معاہدہ ہوا ہے نائیس کمپنی نے اسے پامال کیا ہے۔ شہر بنگلور کو چھوڑ کر ریاست کے کسی بھی حصہ میں نائیس کمپنی نے حاصل کی گئی زمین پر کوئی پیش رفت نہیں کی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی طرف اس کمپنی نے کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ کمیٹی نے الزام لگایا کہ بنگلور میسور نان اسٹاپ شاہراہ اور دیگر ترقیاتی کاموں کے نفاذ میں کروڑوں روپیوں کی ہیرا پھیری ہوئی ہے۔19سال قبل یہ منصوبہ شروع کیا گیا ،لیکن اب تک بجز بنگلور ریاست کے کسی بھی حصہ میں کوئی نائیس روڈ تیار نہیں ہوا ہے۔اس کمپنی نے بنگلور اور میسور کے درمیان بین الاقوامی معیار کی شاہراہ تعمیر کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا، لیکن یہ اپنے کام میں عدالتوں کے مقدموں اور دیگر قانونی داؤ پیچ کے بہانے سے پوری طرح ناکام رہی ہے۔ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ اس پورے گھپلے کی جو 20 ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کا ہے، سی بی آئی کے ذریعہ ہی جانچ کرانا مناسب ہوگا۔ ایوان میں یہ رپورٹ پیش کئے جانے کا تمام سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا۔ اور نائیس کے خلاف کارروائی کرنے کمیٹی کی سفارش کو سراہا۔کمیٹی نے حکومت کو بتایاکہ نائیس کمپنی کی طرف سے 2008میں جو نائیس روڈ تعمیر کیا گیا اس کیلئے اب تک کمپنی نے 1350 کروڑ روپیوں کا ٹول غیر قانونی طور پر وصول کیا ہے، ریاستی حکومت یہ رقم کمپنی سے حاصل کرلے ۔ 2012 تک بھی حکومت نے اس کمپنی کو ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ یہ کمپنی 2008 سے ہی ٹول وصول کرنے میں لگ گئی۔ اس سلسلے میں کمیٹی نے رقم واپس لینے کے ساتھ کمپنی پر کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔


Share: