بنگلورو،24؍جنوری(ایس او نیوز)آئندہ تعلیمی سال ریاستی حکومت پہلی سے آٹھویں جماعت تک جو نیا تعلیمی نصاب مرتب کرنے جارہی ہے اسے لے کر مختلف حلقوں میں جاری شکوک وشبہات بے بنیاد ہیں۔ ریاستی حکومت نے نیا نصاب لاگو کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اس پر وہ قائم رہے گی۔ یہ بات آج وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ نے بتائی۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تعلیمی نصاب کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس پر مکمل غور وخوض کے بعد ہی تعلیمی نصاب کو منظوری دی گئی ہے، اسی لئے اس پر اعتراضات یا شبہات ظاہر کرنا بے معنی ہے۔ آئندہ یکم جون سے جب تعلیمی ادارے اگلے سال کی تعلیمی سرگرمیاں شروع کریں گے اس وقت تک نئے تعلیمی نصاب پر مشتمل کتابیں تمام اسکولوں تک پہنچانے کے انتظامات کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نئے تعلیمی نصاب کے تحت نویں اور دسویں جماعت کیلئے این سی ای آر ٹی کی کتابیں اور پہلی تا آٹھویں جماعت کیلئے ریاستی نصاب کی کمیٹی کے طے کردہ موضوعات وضع کئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ریاستی بی جے پی نے گورنر واجو بھائی والا سے شکایت کی تھی کہ ریاستی حکومت کی طرف سے نیا تعلیمی نصاب لاگو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسی لئے اس نصاب کو نافذ ہونے نہ دیا جائے۔ تنویر سیٹھ نے کہاکہ یہ الزام غلط ہے کہ نیا تعلیمی نصاب این سی ای آر ٹی کے معیار کے مطابق نہیں ہے اوریہ بھی غلط ہے کہ حکومت نے من مانی سے نصاب پر نظر ثانی کی ہے۔ سیٹھ نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں تعلیمی نصاب کو من مانے طریقہ سے بدلا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے این سی ای آر ٹی کے طے شدہ معیارات کے مطابق تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کی ہے۔نصابی کتابوں کی طباعت کا سلسلہ بھی آگے بڑھایا جاچکا ہے۔ یکم جون سے ریاست بھر میں نئے تعلیمی نصاب کے مطابق ہی تعلیمی سرگرمیاں چلائی جائیں گی۔