اڈپی، 25 / جون (ایس او نیوز) کریمنل پروسیجر کوڈ کی جگہ اب جو 'ناگرک سُرکشا سنہیتا' قانون عمل میں لایا جا رہا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ شانتا رام شیٹی نے کہا اس سے پولیس کو بے لگام اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور ملک میں انارکی (طوائف الملوکی، بدنظمی) پھیلے گی۔
ایڈوکیٹ شانتا رام شیٹی نے پرانے قوانین کی جگہ لائے گئے تین نئے قوانین کے موضوع پر اڈپی ضلع ورکنگ جرنلسٹس ایسو سی ایشن کے بینر تلے اڈپی بار ایسو سی ایشن، ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن کے اشتراک سے اڈپی پریس کلب میں منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔
انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاملے میں ایف آئی آر درج کرنا بہت اہم ہوتا ہے ۔ مگر اس نئے قانون میں تین سال سے زائد اور سات سال سے کم سزا والے معاملے میں جرم کی اطلاع ملتے ہی پولیس کو فوری طور پر تفتیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ اسے ابتدائی تفتیش کرنے کے لئے 14 دنوں تک کی مہلت دی گئی ہے ۔ چونکہ ہمارے یہاں 75 فی صد معاملوں میں سات سال سے کم سزا ہوتی ہے اس لئے پولیس کو دی گئی اس مہلت سے متاثرہ افراد انصاف سے محروم ہونے کے امکانات ہیں ۔ کیونکہ پولیس اور سیاسی اثر و رسوخ والوں کی مداخلت سے اس کا منفی استعمال ہو سکتا ہے ۔ یہ بات دستور کی طرف سے ہمیں دی گئی انصاف پانے کی آزادی کے منافی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے زمانے سے چلے آ رہے انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی)، کریمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) اور انڈین ایویڈنس ایکٹ بہت ہی اہم قوانین ہیں اور وہی حقیقی کریمنل جسٹس سسٹم ہے ۔ یہ تینوں قوانین تین رتن جیسے ہیں ۔ اس میں کسی قسم کا مسئلہ نہ رہنے کے باوجود نئے قوانین کن مقاصد کے تحت لائے گئے ہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے ۔
شانتا رام شیٹی نے کہا کہ ان پرانے قوانین کو بدلنے کے لئے عوام کی طرف سے کبھی کوئی مانگ سامنے نہیں آئی ۔ اس کے باوجود اچانک ہی ان قوانین کو عوام کے اوپر لادا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ صحیح ہے کہ قوانین میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہوتی رہنی چاہیے اور کئی قوانین میں ترمیم بھی کی جا چکی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پورے قوانین ہی بدلنے کی واقعی کوئی ضرورت تھی ؟
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں 22 زمانے شیڈول میں شامل ہیں ۔ 60 کروڑ افراد ہندی بولتے ہیں ، 6 کروڑ لوگ کنڑا، 20 لاکھ کونکنی، تُولو زبانیں بولتے ہیں ۔ جبکہ سنسکرت زبان بولنے والوں کی تعداد صرف 24 ہزار ہے ۔ ایسے میں ان نئے قوانین کا نام سنسکرت زبان میں دینے کا مطلب سمجھنا مشکل ہے کیونکہ اس کے اندر 75 فی صد ہندی زبان کا استعمال ہوا ہے ۔
انہوں نے بڑا تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا 'بھارتیہ ناگرک سرکشا' قانون نہیں بلکہ 'بھارتیہ ناگرک اَ سرکشا' قانون ہے ۔ اس طرح کے نئے قوانین وضع کرنے والے بڑے بے وقوف ہیں اور وہ حقیقی شہری نہیں ہیں ۔ اس لئے سپریم کورٹ کو فوراً اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے ۔
اڈپی ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن کے صدر ڈاکٹر رویندرا ناتھ شانوبھوگ نے بھی اس موقع پر نئے قوانین کے منفی پہلووں پر روشنی ڈالی ۔