منگلورو25؍فروری (ایس او نیوز)وزیر غذا جناب یوٹی قادر نے وارتھا بھارتی ڈیلی میڈیا سنٹر کے لانچنگ پروگرام ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مینگلور بند کرنے اور کیرالہ وزیراعلیٰ کی آمد کی مخالفت کرنے پر اُن تنظیموں کو آڑے ہاتھ لیا اور خوب برستے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ریالی کے خلاف بند اور ہڑتال کا اعلان کیا تھاوہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجیانن کی جوتیوں کے بھی برابر نہیں ہیں۔یوٹی قادر نے بتایا کہ جو لوگ دستور کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، انہیں چپلوں سے مارنا چاہیے۔کیونکہ مسٹر وجیانن کی آمد کے خلاف احتجاج کرنے والے ہماری ثقافت اور دستور کے اس نظریے کی مخالفت کررہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ 'Athithi Devobhava'.یعنی مہمان خدا جیسا ہوتا ہے ۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کیرالہ پینارائی وجیانن نے کہا کہ ملک کا اکثر میڈیا یہ کہتا ہے کہ وہ سیکیولر ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ فرقہ وارانہ نظریات کی طرف ان کا جھکاؤ ہوتا ہے۔ اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ملک میں سیکیولر کیریکٹر کا بنائے رکھنا ، میڈیا کی ذمہ داری ہے۔تقریباً95% میڈیاسرمایہ داروں کا حامی ہے۔یا سرمایہ داروںcapitalistsکی طرف سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔اور بدقسمتی یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ مفادات کو بچائے رکھنے کے لئے میڈیا ہاؤس آپس میں مقابلہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر میڈیا ہاؤس کا اپنا ایک مقررہ نصب العین ہے۔اس میں کچھ غلط نہیں ہے، البتہ یہ سماج کی تعمیری خدمات کے لئے ہونا چاہیے۔
پروگرام میں ضلع انچارج منسٹر رماناتھ رائے،رکن اسمبلی ابھئے چندراجین،جے آر لوبو،محی الدین باوا،میئر ہری ناتھ،میونسپل کارپوریشن کمشنر محمد نذیر،وارتا بھارتی کے چیف ایڈیٹر عبدالسلام پتگے وغیرہ موجود تھے۔
شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بند کا سب سے زیادہ اثر اُلال میں : کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے منعقدہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ریالی میں وزیر اعلیٰ کیرالہ پینارائی وجیانن کی شرکت کے خلاف ہڑتال کا اثر سب سے زیادہ الال میں پڑا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق الال، کوناجے، منجیشور وغیرہ علاقوں میں کے ایس آر ٹی سی اور پرائیویٹ بسوں پر پتھراؤ کے زیادہ واقعات پیش آئے۔ تلپاڈی کے مقام پر بس پر ہونے والے پتھراؤ سے ڈرائیوروجئے کے شدید زخمی ہونے کی بھی خبر ملی ہے۔جبکہ ایک اور ڈرائیور ماتاپٹی پر شرپسندوں کی طرف سے حملہ بھی ہوا ہے۔پرائیویٹ بس کے مالکان نے کہا ہے کہ آر ٹی او اور ڈپٹی کمشنر کے دباؤ میں انہوں نے بند کے اعلان کے باوجودبسیں سڑک پر اتاری تھیں۔ اس لئے بسوں کی کانچ توڑنے اور دیگر نقصانات کی ذمہ داری آر ٹی او اور ڈی سی پر عائد ہوتی ہے۔