منگلورو26؍نومبر(ایس او نیوز) یہاں کی میلاگریس کالج میں طلباء اور پرنسپال کے بیچ چل رہے حاضری کے تنازعہ میں ہائی کورٹ نے طلبا ء کو کسی قسم کی راحت دینے سے انکار کیا ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے کچھ دنوں قبل میلاگریس کالج کے پرنسپال نے بی کام، بی بی اے اور ایم بی اے کورسس میں زیر تعلیم 22طلباء کو امتحان ہال کا ٹکٹ دینے سے اس لئے انکار کردیا تھا کہ وہ یونیورسٹی کی طرف سے لاگو 75%حاضری کے قانون پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ اس پر کالج کے پاس احتجاج اور ہنگامہ بھی ہوا تھا۔ اور IIIبی بی اے کے طالب علم شاہنواز کے ذریعے کالج کے پرنسپال میکائیل سانتو میور پر حملہ کرنے کی واردات بھی پیش آئی تھی۔ جس کے بعد فرار ہونے والے شاہنواز کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا اور وہ اب تک جیل میں قید ہے۔
اس دوران 17طلباء نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ طلباء کا کہنا تھاکہ کالج نے حاضری کم ہونے کے تعلق سے کوئی اطلاع یا تنبیہ نہیں دی تھی، نہ ہی ان کے والدین کو اس ضمن میں کوکالج کی طرف سے کوئی معلومات دی گئی تھی۔ پھر اچانک ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا اور انہیں امتحان ہال کا ٹکٹ نہ دینا درست نہیں ہے۔چونکہ وہ غریب خاندانوں کے مگر ذہین طلباء ہیں، اس لئے انہیں امتحان میں شریک ہونے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
کالج کی طرف سے پیش ہونے والی کالج کی قانونی صلاح کار وکیل ایلزیبتھ نیلیارانے عدالت کے سامنے دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ طلباء کو ان کی حاضری کم ہونے کے تعلق سے وقتاًفوقتاً آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے طلباء کے نام نوٹس بورڈ پر بھی آویزاں کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے والدین کو بھی مراسلے بھیج کر اطلاع دی جاتی رہی ہے۔کالج نے کم حاضری والے طلباء کے لئے خصوصی کلاسس کا اہتمام بھی کیاتھا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 68طلباء نے اپنی حاضری کا ریکارڈ درست کرتے ہوئے 75%کا نشانہ پار بھی کرلیا ۔ مگر تنازعہ کھڑا کرنے والے 22طلباء نے اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور سنجیدگی کے بجائے بے پروائی کا مظاہرہ کرتے رہے۔
عدالت نے طلباء کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کم سے کم حاضری کا نشانہ پورا نہ کرنے والے طلباء کو امتحان میں شرکت کی اجازت دینے کے لئے یونیورسٹی یا کالج کو کسی بھی قسم کی ہدایت نہیں دی جا سکتی ۔ایڈوکیٹ ایلزیبتھ کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ کالج میں حاضری کو سنجیدگی سے نہ لینے والے طلباء کے لئے ایک سخت وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔