ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میسور میں آر ایس ایس کارکن روی کی پراسرار موت،پولیس کو حادثہ کا شبہ ، بی جے پی کو قتل کا گمان

میسور میں آر ایس ایس کارکن روی کی پراسرار موت،پولیس کو حادثہ کا شبہ ، بی جے پی کو قتل کا گمان

Sun, 06 Nov 2016 11:47:44    S.O. News Service

بنگلورو۔5؍ستمبر(سیاست نیوز) شہر کے شیواجی نگر علاقہ میں آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کا معاملہ ابھی تھماہی نہیں ہے کہ آج میسور میں ایک آر ایس ایس کارکن کو مشتبہ حالات میں مردہ پایا گیا۔ میسور ضلع کے پریا پٹنہ تعلقہ کے ماگلی دیہات کے 35 سالہ روی کو آج مشتبہ حالات میں مردہ پایا گیا۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ اس کا کسی نے قتل کیا ہوگا۔ روی پریا پٹنہ تعلقہ بی جے پی یووا مورچہ کا سابق صدر رہ چکا ہے اور آر ایس ایس میں متحرک کارکن رہا ہے۔ ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کے سلسلے میں منعقدہ امن کمیٹی میٹنگ میں شرکت کے بعد روی اپنے گھر لوٹ رہاتھا کہ بیچ میں ہی کسی مقام پر اسے مردہ پایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس طرح روی کی نعش برآمد ہوئی ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ گاڑی سے گرنے کے سبب اس کی موت واقع ہوئی ہوگی، لیکن بی جے پی کارکن اور اس کے گھر والے اس کی موت کو حادثہ ماننے سے انکار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس کا قتل کیاگیا ہے۔ روی بی جے پی اور آر ایس ایس کے سرگرمیوں کے علاوہ رئیل ایسٹیٹ کی تجارت بھی کررہاتھا۔ بی جے پی نے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ میسور کے رکن پارلیمان پرتاب سمہا نے جائے وقوع پر پہنچ کر پولیس افسران سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی سختی سے جانچ کی جائے ۔ اعلیٰ پولیس حکام نے بھی پریا پٹنہ کا دورہ کیا۔ روی کے خاندان والوں کی طرف سے قتل کی شکایت کے سبب پولیس نے دفعہ 302کے تحت ایک مقدمہ درج کرلیا ہے اور جانچ شروع کرچکی ہے۔ پوسٹ مارٹم کیلئے روی کی نعش میسور کے کے آر اسپتال روانہ کی گئی ۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی یہ بات سامنے آسکتی ہے کہ روی کی موت حادثہ میں ہوئی یا کسی نے اس کا قتل کیا۔ میسور کی کے آر اسپتال کے پاس معقول پولیس بندوبست کیاگیا ہے۔ روی کے قتل کی وجہ سے میسور ، پریا پٹنہ اور دیگر مقامات پر پولیس نے حفاظتی انتظامات پختہ کردئے ہیں۔ 


Share: