نئی دہلی، 31 جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سیاست میں لیڈران کا ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کادورتوچلتاہی رہتاہے لیکن جب خود پھنستے ہیں تو وہ اپنے مخالف رہنماؤں والی اسٹائل اپنا لیتے ہیں۔ سیاسی میدان میں ایساہی ایک بارپھرہوا۔میگھالیہ کے دورے پر گئے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے منگل کی شام دارالحکومت شیلانگ میں ایک پروگرام کے دوران اپنے پہنے جیکٹ پر تنازعہ بڑھنے کے بعد اب صفائی دی ہے۔ راہل نے واضح کیا کہ ن کے جس جیکٹ تنازع ہورہاہے،وہ انہیں تحفے میں دی گئی ہے۔میگھالیہ میں اس وقت انتخابات کا زور ہے اور وہ وہاں دو دن کے دورے پر گئے ہوئے ہیں۔ سوال اٹھائے جانے کے بعد راہل نے کہا کہ یہ جیکٹ شیلانگ میں کسی نے انہیں گفٹ کی تھی۔کانگریس صدر کے یہ جیکٹ پہننے پر اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب میگھالیہ بی جے پی نے دعوی کیا کہ انہوں نے اس پروگرام میں جو جیکٹ پہنی ہے، وہ قریب 63 ہزار روپے کی ہے۔ راہل نے یہاں اپنی انتخابی مہم منگل کو شروع کی۔وہیں انہوں نے ایک موسیقی کنسرٹ جشن میں یہاں حصہ لیا اور گانابھی گایا۔راہل نے جس ٹو۔ان ۔ون باربیری جیکٹ کوپہن رکھاہے اس کی قیمت بلومنگ ڈیل سائٹ پر 995 ڈالر یعنی 63 ہزار روپے ہے۔واضح رہے کہ راہل گاندھی نے نریندر مودی کی حکومت کو سوٹ بوٹ والی حکومت قراردیاتھا۔ ان کا اشارہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پہنی اس جیکٹ کی طرف تھا، جو لاکھوں روپے کی قیمت کاتھا۔ مودی نے اس جیکٹ کو امریکی صدر براک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے دوران پہناتھا، جس میں ان کے نام کی نقاشی سونے سے کی گئی تھی۔