بنگلورو26/دسمبر(ایس او نیوز) مہادائی ندی سے شمالی کرناٹک کے لئے پانی جاری کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہر میں بی جے پی دفترکے روبرو دھرنا دے رہے کسانوں کی کانگریس نے کھلے عام تائید کردی ہے۔ پچھلے چار دنوں سے بی جے پی دفتر کے روبرو دن رات دھرنا دے رہے کسانوں سے کے پی سی سی صدر دنیش گنڈوراؤ اور مےئر سمپت راج نے آج ملاقات کرکے مظاہرین کی تائیدکرنے کا یقین دلایا۔
ہائی کمان کی تائید کا مطالبہ: اس موقع پر رعیت سینا کے نائب صدر شنکر امبانی نے کہا کہ اس معاملہ میں کانگریس صدر راہل گاندھی کا موقف ہم جانناچاہتے ہیں۔ کیونکہ گوا کانگریس کے صدر نے مہادائی سے شمالی کرناٹک کو پانی جاری کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے دنیش گنڈوراؤ سے درخواست کی کہ کسی بھی طرح راہل گاندھی کے ذریعہ فوری گوا کانگریس صدر کو ہدایت دلوائیں کہ وہ شمالی کرناٹک کو پانی جاری کرنے کے معاملہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔یہ درخواست راہل گاندھی تک پہنچانے کا دنیش نے تیقن دیاہے۔ مہادائی سے پانی جاری کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ علاقوں کے کسانوں کی ہڑتال چوتھے دن میں داخل ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا نے شمالی کرناٹک والوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مہادائی سے اس علاقہ کے لئے پانی دلوائیں گے۔ اس وعدہ کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کسانوں نے دھرنا شروع کیاہے۔ریاستی وزیر اعلیٰ سدارمیا نے آج ہبلی میں کہا ہے کہ مہادائی آبی تقسیم تنازعہ میں بی جے پی لیڈران سیاست کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزیراعظم کی مداخلت سے ہی حل ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے وزیر اعظم کو آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ مہادائی آبی تنازعہ کے حل کیلئے منوہر پاریکر کو کئی خطوط لکھے ہیں ۔ اب تک کسی بھی خط کا جواب نہیں آیا۔ اس کے بر عکس پاریکر بی جے پی کے ریاستی صدر ایڈی یورپا کو اس معاملے میں خط لکھے ہیں جس پر انہوں نے برہمی ظاہر کی ہے۔ ضلع انچارج وزیر ایس ایس ملیکاارجن کی رہائش گاہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہادائی معاملہ میں سیاست کو چھوڑ کر کسانوں کے مفادات میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
جھوٹا نمبر ایک: بی جے پی کے ریاستی صدر ایڈی یورپا کو جھوٹ نمبر ایک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران ان کی حکومت نے مختلف عوام دوست اسکیمیں جاری کی ہیں اس کے باوجود ایڈی یورپایہ کہتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں کہ کانگریس حکومت نے پچھلے ساڑھے چار سالوں کے دوران کوئی ترقیاتی کام ہی نہیں کیا ۔ سدرامیا نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات ماہ مئی میں منعقد ہوسکتے ہیں۔ اس وقت عوام بی جے پی کو اچھا سبق سکھائے گی۔اس تقریب میں ویر شائیوا لنگایت مہا سبھا کے صدر شانور شیو شنکر پا نے کہا کہ لنگایت طبقہ کیلئے علاحدہ مذہب کا درجہ دینے کے معاملہ میں انہوں نے کوئی بحث نہیں کی ۔ لنگایت طبقہ کا جائزہ لینے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ کمیٹی رپورٹ پیش کرنے کے بعد اس معاملے میں حکومت فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ پارٹی سرگرمیوں اور اگلے اسمبلی انتخابات کیلئے امیدواروں کے انتخابات سے متعلق تبادلہ خیال کیا ۔ لنگایت مذہب سے متعلق کوئی بحث نہیں کی۔ اس تقریب میں متعلقہ انچارج وزیر ایس ایس ملیکا ارجن اور دیگر کئی اہم شخصیتوں نے شرکت کی۔
بی جے پی کو ر کمیٹی میں بحث: آج یہاں بی جے پی کورکمیٹی کے اجلاس میں مہادائی آبی تنازعہ پر بھی بحث ہوئی اس معاملہ میں گواکے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر کو بات چیت کے لئے تیار کرنے کو ر کمیٹی اجلاس میں اتفاق ہوا ہے ۔کورکمیٹی اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث رہا کہ شمالی کرناٹک کے چند علاقوں کو مہادائی سے پینے کا پانی جاری کرنے میں گوا حکومت کی کوئی تکرار نہیں، منوہر پاریکر نے ایڈی یورپا کو لکھے اپنے خط میں اس کا ذکر کیا ہے لیکن کانگریس اس معاملے میں الجھن پیدا کررہی ہے۔
مرکزی وزیر بھی برہم: مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے اشتعال انگیز بیانات پر بی جے پی کو رکمیٹی اجلاس میں بھی کئی سینئر لیڈران نے برہمی کااظہار کیا ۔ اننت کمار ہیگڈے کی زبان پر لگام لگانا ضروری ہے۔ اسمبلی انتخابات سے قریب ہیگڈے کے اس طرح کے بیانات سے پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے۔ اننت کمار ہیگڈے سے متعلق کور کمیٹی اجلاس کے تاثرات پارٹی ہائی کمان تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔