نئی دہلی:10/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عالمی شہرت یافتہ عالم اور مشہور تعلیمی و تربیتی ادارہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات کے شیخ الجامعہ حضرت مولانا عبداللہ کاپودروی کاآج طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا،اس حادثے کی خبر سنتے ہی ملک بھر کے اہل علم و فکرکے حلقے میں رنج و غم کی لہر دوڑگئی ہے۔ان کی وفات کی خبر ملتے ہی معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے اپنے قلبی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مولاناکے پسماندگان سے رابطہ کرکے اظہار تعزیت کیا اور صبر و استقامت کی تلقین کی۔مولانا نے کہا کہ مولانا کاپودروی اس ملک کے مقبول و معتبراور بالغ نظر عالم دین تھے،ایک طویل عرصے سے وہ گجرات کے مرکزی ادارہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر کے سربراہ تھے اور ملک و بیرون ملک میں ان کے ہزاروں شاگرد پھیلے ہوئے ہیں جومختلف شعبوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔مولانا کاپودروی علماء ودانشوران کے حلقے میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اورانہوں نے ملک کے مختلف نمائندہ تعلیمی اداروں اور رفاہی و فلاحی تنظیموں کے باہمی اختلافات کو دورکرنے میں بھی نمایاں اور اہم رول اداکیا۔مولانا قاسمی نے کہا کہ ان کی شخصیت مسلمانوں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں تھی، ان کا انتقال یقیناتمام مسلمانوں کا عظیم خسارہ ہے۔مولانااسرارالحق نے کہاکہ مولانامرحوم ومغفورکے مجھ سے ذاتی تعلقات تھے اور مختلف ملی وقومی مسائل ومعاملات پر ان سے تبادلہئ خیال کا موقع ملتا رہتا تھا،بارہاان کے ساتھ سفر بھی ہوا،ان کی گفتگومیں علمیت اور مسلمانوں کے تئیں فکرمندی کے جذبات پائے جاتے تھے،اخلاقی اعتبار سے بھی وہ ایک عظیم انسان تھے اور ہمیشہ خلوص و ہمدردی کے ساتھ پیش آتے تھے،وہ گجرات کے ایک عظیم علمی و دینی ادارے کے سربراہ تھے اوراس کا سارانظم و نسق ان کی نگرانی میں انجام پاتا تھا،اس کے علاوہ ہندوستان کے بیشتر بڑے تعلیمی،ملی و رفاہی اداروں کو ان کی توجہات حاصل تھیں اور وہ ہر ادارے کی رہنمائی فرمایاکرتے تھے۔مولاناقاسمی نے ان کی وفات کو ایک عظیم سانحہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ان کی وفات سے امت مسلمہ ایک قدآورعلمی شخصیت اور مختلف محاذپر بروقت رہنمائی کرنے والے مخلص قائد سے محروم ہوگئی ہے۔مولاناقاسمی نے ان کے انتقال کی خبر ملنے کے بعدفوراً اپنی سرپرستی میں چلنے والے اداروں میں قرآن خوانی وایصال ثواب کا بھی اہتمام کروایا۔واضح رہے کہ انتقال کے وقت مولانا کاپودروی کی عمر پچاسی سال تھی،انہوں نے 1955میں دارالعلوم دیوبند سے فضیلت مکمل کیا،مختلف موضوعات پر انہوں نے ایک درجن سے زائد کتابیں تحریرکیں،دنیاکے مختلف ملکوں کے علمی و دعوتی اسفار کیے اوران کے ہزاروں شاگرد مختلف ملکوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔پسماندگان میں پانچ بیٹی اور سات بیٹیاں ہیں۔