نئی دہلی۔ یکم نومبر ( ایس او نیوز/پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بھوپال میں سیمی سے متعلق نوجوانوں کی فرضی انکاؤنٹر پر اپنے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے مختلف قرائن، ویڈیو کلپ اور دیگر شواہد کے حوالے سے کہا کہ ایسا صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پولس کا آزمودہ حربہ اور فرضی انکاؤنٹر ہے، جس میں بھوپال سینٹرل جیل سے فرار دکھا کر آٹھ بے دست و پا نہتے قیدیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ منظم کاروائی تھی جس نے نہ صرف بے قصور جانیں ہلاک ہوئیں ہیں بلکہ قانون اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری گئیں ، اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ آ زاد جو ڈیشل انکوائری کے ذریعے ان افسران کو بے نقاب کرکے سخت سزا دی جائے جو اس منصوبے میں شامل تھے۔
واضح ہو کہ ان مقتول نوجوانوں کا مقدمہ مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا لڑرہی تھی ، کئی سماعتوں کے بعد جمعیۃ کے وکلاء کے سامنے یہ بات صاف ہو گئی تھی کہ وکیل استغاثہ (اے ٹی ایس) کے پاس ان کو قصور وار قرار دینے سے متعلق کوئی خاطر خواہ ثبوت نہیں ہے۔ مولانا مدنی نے سوال اٹھا یا کہ کیا ملک کی ایجنسیوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بے قصور نوجوانوں کو انکاؤنٹر کرنے کا راستہ منتخب کرلیا ہے؟ ۔ انھوں نے کہا کہ انکاؤنٹر سے متعلق دو ویڈیو سامنے آئے ہیں جوصاف ظاہر کرتے ہیں کہ ان غیر مسلح افراد کو پکڑ کر قریب سے مارا گیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ بھوپال کا سینٹر ل جیل جسے ہندستان کا سب سے بہتر جیل کا درجہ حاصل ہے ، جہاں مضبوط سیکوریٹی الارمنگ نظام، دیواروں میں کرنٹ کے تار، آرمڈ اسپیشل فورس موجود ہیں، وہاں سے کس طرح تین تین اونچی اور ناقابل تسخیر دیواریں کود کر آٹھ افراد بھاگ گئے اور پورے شہر کی پولس خاموش بیٹھی رہی۔
مولانا مدنی نے ریاستی وزیر داخلہ کے متضاد بیان پر بھی تنقید کی او رکہا کہ وہ پولس کے جرائم کو چھپانے کی کوشش نہ کریں ، بلکہ انھیں ان حقائق کا سامنے کرنا چاہیے کہ جو لوگ قید میں تھے ان کے پاس ہتھیار کہاں سے آگئے ؟ ان کے جسم پر نئے کپڑے، ہاتھ گھڑی اور جوتے وغیرہ کس نے دیے اور ’’اس قدر بڑے کریمنل ‘‘کے آپریشن میں پولس والے موبائل سے کس طرح شوٹ کررہے تھے اور ایک میلے کی طرح مقامی گاؤں کی بھیڑ وہاں تماشہ کیسے دیکھ رہی تھی۔مولانا مدنی نے اس بات کو بھی تکلیف دہ قراردیا کہ چند عناصر مقتول کو دہشت گرد بتا کر اس سنگین معاملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جب کہ ہمارے ملک میں قانون کا راج ہے ، ہمارے ملکی قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جب تک کوئی شخص مجرم ثابت نہ ہوجائے اسے مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا، لہذا یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہے کہ وہ ملک کے قانون اور نظام کو روند کر نام نہاد محب وطن بن بیٹھے ۔مولانامدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ان کا مقدمہ لڑرہی تھی ، اس لیے خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور عدالت کے سامنے اس سے متعلق حقائق کو بے نقاب کرے گی۔