کانپور8/ ستمبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) مشہور عالم دین جمعیۃ علماء شہر کانپور کے جنرل سکریٹری وجانشین قاضی شہر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کو اترپردیش جمعیۃ علماء کے صوبائی صدر بنائے جانے پر جمعیۃ علماء کانپور کی جانب سے شہری صدر مولانا انوار احمد جامعی کی صدارت میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے مولانا اسامہ قاسمی کو اتفاق رائے سے عہدہ صدارت پر منتخب کئے جانے کو دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
مولانا اسامہ قاسمی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاسلام و مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ اورموجودہ حالات کی نزاکتوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس وقت عالمی پیمانے پر اسلام ومسلمان اغیار کے نشانے پر ہیں۔ عالم اسلام مقتل میں تبدیل ہوچکا ہے اسلام دشمن طاقتوں نے اپنے مکروہ مکروفریب کا جال بچھا دیا ہے۔ امت مسلمہ بے شمار فتنوں کے نرغے میں ہے،ہمارے ملک ہندوستان میں نفرت واشتعال انگیزی برپا کرنے کی مسلسل کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں کی یکجہتی وکثرت میں وحدت کے طرہ امتیاز کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ملک دشمن عناصر درپے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند جو ملک وملت کی فلاح وبہبود کے لیے ہمیشہ سے سرگرم عمل رہی ہے ان حالات میں اس کی ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ یکجہتی وملک کے سیکولرزم کو نقصان پہنچانے والے چہروں کو اجاگر کرکے لوگوں کو متنبہ وہوشیار کیا جائے اور سارے طبقات کو بلا تفریق مسلک مذہب وملت تمام اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے لیے کام کیا جائے۔مولانا اسامہ نے جمعیۃ علماء کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے اکابر ہندوستان کی آزادی کے لیے کفن بردوش ہتھیلی پر جان رکھ کر آزادی ئ وطن کے لیے کام کیا اور آزادی کے بعد ملک کے اندر مسلمانوں کی اسلامی شناخت اور تشخص اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری برادران وطن کے ساتھ رواداری، انسانی ہمدردی خیر خواہی اور ضرورتوں کی تکمیل اور سسکتی انسانیت کو راہ راست پر لانے کا کام کیا ہے۔ ہمارے اکابر بقائے باہم کے خوگر مدارس ومکاتب کے تحفظ مظلوموں اور بے کسوں کو انصاف دلانے کے لیے ہمیشہ کمر بستہ رہے اور مسلک ومذہب سے اوپر اٹھ کر کام کیا۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ اکابر کے بنائے ہوئے اصول اور ان روشن تاریخ کو سامنے رکھ خدمات انجام دوں گا آپ لوگوں نے مبارکباد دی یہ آپ حضرات کی محبتیں ہیں بہت بہت شکریہ لیکن مجھے اس وقت مبارکباد سے زیادہ آپ حضرات کی دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ ملک وملت کے مفاد میں جمعیۃ علماء کو مزید فعال بناکر گردش ایام کو موزوں کرنے، جمعیۃ کے تنظیمی استحکام اور اس کے ذریعہ تعمیری کام سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں احترام آدمیت آئین ودستورکے مطابق اقلیتوں وتمام مظلوموں کے حقوق کی بازیابی میں کامیابی نصیب ہواور قومی وملی بہبود کی سعی پیہم میں مصروف عمل ر ہوں۔ہمارا مشن جذباتی سیاست سے ہٹ کر اعتدال کے ساتھ کام کرنا ہے، ہند و مسلم اتحاد و دلت مسلم آدیواسیوں کو ساتھ ملا کر حقوق کی بازیابی کی لڑائی لڑنی ہے۔ مسلکی تنازعات سے بالا تر ہو کر پوری ملت کیلئے کام کرنا ہے۔ قوم کی گالیاں سن کر انہیں کیلئے کام کرنا ہے۔ یہ ہمارا ورثہ ہے۔
اس سے قبل جمعیۃ علماء شہر کانپور کے نائب صدر مولانا نورالدین احمد قاسمی نے کہا کہ ہم اہل کانپور کے لیے یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ جمعیۃ علماء کے ارکان نے حضرت مولانا کو اس نازک وقت میں جب کہ ملک میں مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ نفرت پیدا کی جارہی ہے جمعیۃ علماء اترپردیس کا صدر بنایا ہے ہم قوی امید کرتے ہیں کہ مولانا کی قیادت میں جمعیۃ علماء یوپی ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔ جمعیۃ علماء شہرکانپور کے سکریٹری مولانا محمد اکرم جامعی نے نظامت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اسامہ قاسمی صاحب جیسی فعال ومحترک شخصیت صوبہ یوپی کی صدارت کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ زبیر احمد فاروقی،محمود عالم قریشی و دیگر اراکین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقعہ پرخصوصی طور پر مفتی محمد سعید خاں قاسمی، مولانا انعام اللہ قاسمی، مولانا ذکریا قاسمی، قاری مجیب اللہ قاسمی، مولانا انیس الرحمان قاسمی، مولانا عقیل احمد جامعی، قاری انیس احمد، مولانا سجاد قاسمی، قاری عبد المعید چودھری، مولانا نور الدین احمد قاسمی، مولانا محمد شفیع مظاہری، مولانا محمد اکرم جامعی، مفتی سید محمد عثمان قاسمی، مولانا محمد عامر قاسمی، مولانا محمد ثمین قاسمی، مولانا فرید الدین قاسمی، حافظ محمد یوسف، مولانا حبیب الرحمان قاسمی، مفتی اظہار مکرم قاسمی، مولانا ادریس قاسمی، حافظ جنید راعینی، مولانا انیس خاں قاسمی، مولانا ظفرعالم، مفتی عبد الرشید قاسمی، مولانا حفظ الرحمان قاسمی، حافظ عبد الرشید، شفیق احمد، محمد ذیشان، ڈاکٹر حلیم اللہ، شفیع احمد، رضوان ملک، حسیب احمد، حبیب اللہ، حافظ عارف، عبد الرحمان، ریاض احمد، حاجی طاہر خاں، محمد جنید، حاجی سلیم، حاجی نعمت اللہ، مشیر عالم کے علاوہ دیگر لوگ پر موجود رہے۔