بغداد،20نومبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)عراقی فوج نے داعش کے خلاف جاری آپریشن کے دوران موصل شہر میں ایک اور اجتماعی قبر کا پتا چلایا ہے جس میں دسیوں افراد کو قتل کے بعد دفن کیا گیا تھا۔ عراقی وزارت داخلہ کیزیراہتمام ایلیٹ فورسز نے جمعہ کے روز موصل میں داعش کے گڑھ سے کوئی 10کلو میٹر دور تل الذھب قصبے کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ فورسزنے تلاشی کی کارروائیوں کے دوران انکشاف کیا کہ داعشی جنگجوؤں نے دسیوں افراد کو قتل کرکے ایک اجتماعی قبر میں دفن کررکھا ہے۔تلاشی کے دوران اجتماعی قبر کا سراغ اس وقت ملا جب فوج کو ایک جگہ شہریوں کے کپڑے، جوتے اور ہڈیاں دکھائی دیں۔ انہوں نے وہاں کھدائی کی تو ایک اجتماعی قبر برآمد ہوئی۔ اجتماعی قبر سے نکلنے والی بدبو سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زیادہ پرانی نہیں ہے۔عراقی وزارت داخلہ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اجتماعی قبر سے 40مقامی باشندوں کی لاشوں کا پتا چلا ہے۔ جب کہ فوج کے ایک عہدیدار یحییٰ جمعہ بتایا کہ بیشتر لاشیں عراقی فوج اور پولیس اہلکاروں کی ہیں جنہیں اجتماعی طور پر داعشی جنگجوؤں نیموت کے گھاٹ اتارنے کے بعد یہاں دبا دیا تھا۔ عینی شاہدین نے بھی چالیس لاشوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔خیال رہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے زیرتسلط علاقوں سے اجتماعی قبروں کا ملنا اب معمول بن گیا ہے۔ حال ہی میں موصل کے قریب حمام العلیل کے مقام سے ملنے والی اجتماعی قبر میں سیکڑوں افراد کو اجتماعی طور پر دفن کیے جانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔