نئی دہلی:24/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)موب لنچنگ کے واقعات پر مرکزی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر آ گئی ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس ممبر پارلیمنٹ اور رہنما ملک ارجن کھڑگے نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات ہمیشہ مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں ہی کیوں پیش آتے ہیں تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا میں کیوں نہیں ہوتے ہیں ۔ جس جگہ پر پولرائزیشن کرنا ہوتا ہے اس جگہ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ سیاست ہے کوئی مذہبی مفاد نہیں ہے ۔کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ اعلی سطحی کمیٹی بنانے سے کیا ہوگا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے پاس زیادہ حقوق نہیں بچے ہیں۔ وہیں ٹی ایم سی لیڈر سکھیندو شیکھر رائے نے کہا ہے کہ جو بھی کمیٹی بنائی گئی ہے اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کیونکہ قانون و انتظامیہ تو ریاست کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سپریم کورٹ کی تجویز کا احترام کرنا چاہیے اور موب لنچنگ پر سخت قانون بنے۔ سی پی ایم کے رہنما محمد سلیم نے کہا ہے کہ موب لنچنگ کے خلاف اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل صرف آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار نے کہا ہے کہ مو ب لنچنگ گوشت کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔وہیں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے پریس کانفرنس کے ذریعہ کہا کہ موب لنچنگ پر سخت قانون بنے ۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی پورے ملک کا ماحول خراب کر رہی ہے۔