نئی دہلی، 10/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) عآپ لیڈر اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ آج تہاڑ جیل سے رِہا ہو گئے۔ اس معاملے میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’آبکاری پالیسی گھوٹالہ کی جانچ کے تحت جیل میں بند دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی ضمانت پر سپریم کورٹ نے فیصلہ قانون کے تحت لیا ہے۔ قانون اپنا کام کر رہا ہے، ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
دیویندر یادو نے اس تعلق سے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ دہلی کانگریس کا شروع سے ہی واضح موقف رہا ہے کہ آبکاری گھوٹالہ میں ہوئی بدعنوانی کا معاملہ ہو یا دہلی حکومت کے محکموں میں بدعنوانی ہو، قصورواروں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جانا چاہیے اور اگر کوئی بے قصور ہے تو اسے جیل نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ دہلی کے لوگوں کو انصاف دلانے کے مقصد سے دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عآپ لیڈران و کارکنان میں منیش سسودیا کی رِہائی کو لے کر جشن کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد منیش سسودیا نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے تہاڑ جیل سے باہر نکلنے کے بعد کہا کہ ’’میں سپریم کورٹ کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جب سے میں نے عدالت کا حکم سنا ہے، میرے وجود کا ہر حصہ بابا صاحب کا قرضدار ہو گیا ہے۔ تاناشاہ نے خواب دیکھا تھا کہ پورے اپوزیشن کو اندر ڈالیں گے، لیکن یہ آئین کی طاقت ہے۔ اسی آئین کی طاقت سے اروند کیجریوال بھی باہر آئیں گے۔‘‘