ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منوہرپاریکرکاانکشاف، کشمیر معاملے پر دباؤ کی وجہ سے وزیر دفاع کی کرسی چھوڑی

منوہرپاریکرکاانکشاف، کشمیر معاملے پر دباؤ کی وجہ سے وزیر دفاع کی کرسی چھوڑی

Sun, 16 Apr 2017 10:38:06    S.O. News Service

نئی دہلی،15اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کشمیر میں مچے وبال کے درمیان سابق وزیردفاع اور گوا کے وزیراعلیٰ منوہر پاریکر نے بڑا انکشاف کیاہے۔پاریکرنے کہاہے کہ انہوں نے کشمیر جیسے مسائل کی وجہ سے وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑ کر دوبارہ گوا کا وزیراعلیٰ بننے کا فیصلہ کیا۔وزیر دفاع رہنے کے دوران پاریکر کشمیر میں سختی برتنے کے حامی رہے۔ان کے دور میں ہی فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کیاہے۔پاریکرنے کہاکہ مرکز میں کشمیر اور یہاں وہاں کے تمام مسائل ہیں۔دہلی میں ایک مسئلہ نہیں ہوتاہے۔بہت پریشرہوتاہے۔پاریکرکے اس بیان کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر کار کشمیر مسئلے کو لے کر وہ کس طرح کا دباؤ محسوس کر رہے تھے جو انہوں نے وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا؟۔کشمیر کی طرح کچھ اہم مسائل کا دباؤ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے انہوں نے وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑنے اور اس ساحلی ریاست واپس جانے کافیصلہ کیا۔منوہرپاریکرنے کشمیر مسئلے کو لے کر اپنے اوپر دباؤ کی بات ضرور کہی لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان پر کس طرح کادباؤتھاجوانہوں نے وزیردفاع کے عہدے کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا؟۔سابق وزیردفاع منوہرپاریکرنے کہاکہ کشمیرجیسے مسائل پر کم بحث اور مزید کارروائی کی ضرورت ہے، کیونکہ جب آپ بحث کے لئے بیٹھ کرمسئلے پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔منوہر پاریکر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب سی آر پی ایف کے جوانوں سے کشمیر لڑکوں کی بدسلوکی کا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔اگر اس ویڈیو سے پاریکر کے بیان کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک مطلب یہ ضرور نکلتا ہے کہ وزیر دفاع رہتے ہوئے پاریکر کشمیر کے ایسے علیحدگی پسندوں سے بات چیت کی بجائے ان پر سخت کارروائی کے حق میں تھے لیکن سیاسی وجوہات سے وہ ایسا نہیں کرپائے۔
 


Share: