ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منموہن پر تبصرہ او رٹو جی معا ملہ پر ایوان میں کانگریسی لیڈران کی ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ 

منموہن پر تبصرہ او رٹو جی معا ملہ پر ایوان میں کانگریسی لیڈران کی ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ 

Fri, 22 Dec 2017 23:08:15    S.O. News Service

نئی دہلی،21؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف نریندر مودی کی تبصرہ بازی کا مسئلہ لوک سبھا میں اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی سرمائی اجلاس کے دوران اس ہفتہ مسلسل پانچویں دن بھی جاری رہی اور کانگریس کے ارکان نے اس معاملے پر صدر کی نشست کے قریب آکر نعرہ بازی کی ۔ کانگریس کے ارکان ٹوجی سپیکٹرم پر عدالت کے فیصلے سے متعلق مسئلہ کو بھی اٹھار ہے تھے۔ وقفہ صفر میں اپنے موقف نہ پیش کرنے سے کانگریسی ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ۔ آج صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے دبئی میں منعقد پیراگراف اولمپک کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی کا ذکر کیا۔ ارکان نے میز یں تھپتھپاکر کھلاڑیوں کی کارکردگی کی ستایش کی ۔ اس کے بعد صدر نے جیسے ہی وقفہ سوال شروع کرنے کو کہا ویسے ہی کانگریس کے ارکان پارلیامنٹ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے خلاف مودی کے تبصرہ بازی کو لے کر معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے اپنی بات رکھنا چاہتے تھے لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اسی دوران صدر نے کہا کہ آپ الگ سے پیراگراف اولمپک کھلاڑیوں کو مبارک باد پیش کر سکتے ہیں ۔اس پر ارجن کھڑگے نے کہا کہ میں بھی ایک کھلاڑی رہ چکا ہوں ؛ لیکن یہاں ہم ایک اہم موضوع کو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ، اسی دوران کانگریس کے صدر بیچ میں آکر نعرہ بازی کرنے لگے ۔ کانگریس رکن ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے میں کل عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کے نکتہ کو بھی اٹھارہے تھے ۔ کانگریس کے ارکان ’’پی ایم معافی مانگیں ‘‘ اور ’’ پی ایم جواب دیں ‘‘ کی نعرہ بازی کرتے رہے ۔ کچھ کانگریس کے ارکان کو یہ بھی کہتے ہوئے سناگیا کہ ’’ ٹوجی کیا ہو ا ‘‘ الزامات بند کرو کی نعرہ بازی کر رہے تھے ۔تاہم یہ سچ ہے کہ جس جھوٹ کو لے کر بی جے پی نے ملک میں ایک ہوا بنائی تھی اور شفاف حکومت کو داغ دار بنانے کی کوشش کی تھی آج اس کی قلعی کھل گئی ۔ عوام نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ٹوجی کی کیا حقیقت ہے ۔ وقفہ صفر شروع ہونے پر پھر ارجن کھڑگے اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے ؛ لیکن صدر نے ایک بار پھر بیٹھنے کا اشارہ دیا اور ان کو کچھ بھی نہیں بولنے دیا گیا ۔ اس سے نالاں ہو کر کانگریسی ارکان ایوان سے اٹھ کر باہر آگئے اور واک آؤٹ کا اعلان کر دیا ۔


Share: