نئی دہلی،19؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کئے جانے کے حق میں رائے ظاہر کرتے ہوئے آج وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا میں کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کو خود ہی آگے آ کر اس بارے میں مثال قائم کرنا چاہئے۔اعلیٰ ایوان کے رہنما جیٹلی نے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی جلدسماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کئے جانے کو لے کر اپوزیشن ارکان کی طرف سے فکر جتائے جانے پر کہا کہ ان کی اپنی رائے ہے کہ سیاستدانوں کو شبہ سے پرے ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے کے طور پر لیڈر ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے خلاف سماعت میں تاخیر ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اس بارے میں خود ہی پہل کر کے مثال قائم کرنا چاہئے۔آپ ایم پی ہیں، آپ کو مثال قائم کرنا چاہئے۔سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے ارکان نے ایوان بالا کے اجلاس شروع ہونے پرقانون ونظام کے سوال کے تحت یہ مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہائی کورٹ نے مرکز کو ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی سمیت سیاسی شخصیات کے خلاف مجرمہ مقدمات کی سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے لئے ایک مسودہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 14میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ عام شہری ہوں یا منتخب نمائندے ہوں، قانون سب کے لئے برابر ہے۔ایسے میں ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی سمیت سیاسی شخصیات کے خلاف مجرمامہ مقدمات کی سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کس طرح کی جا سکتی ہیں۔وہ بھی اس وقت جب دہشت گردوں اور مجرموں کے خلاف سماعت کے لئے کوئی خاص عدالتیں نہیں ہیں۔منتخب ہوئے عوامی نمائندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام سے تو سیاستدانوں کو لے کر غلط احساس پیدا ہو گا۔اگروال نے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی سمیت سیاسی شخصیات کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی سماعت کے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے لئے حکومت کے حلف نامے پر بھی سوال اٹھائے۔ کانگریس کے آنند شرما نے کہا کہ کسی کے بھی خلاف مقدمات میں سماعت میں تاخیر کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ایسے میں منتخب نمائندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام سے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوسکتا ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کی ضرورت صرف منتخب نمائندوں کو ہی ہے۔