نئی دہلی 28؍دسمبر (ایس او نیوز) ملک کے سیکیولر دستور کو بدلنے کی بات کہہ کر مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے ملک میں اور پارلیمنٹ میں مخالفت کا جو طوفان کھڑا کردیا تھا، اس کے لئے وزیر موصوف نے لوک سبھا میں یہ کہتے ہوئے معافی مانگ لی کہ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑکر پیش کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کے دن پارلیمان کے دونوں ایوانوں ، لوک سبھا اور راجیہ سبھامیں اس بیان کے خلاف سخت ہنگامہ، احتجاج اور مذمت کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔آج جیسے ہی سیشن کا آغاز ہوا، اننت کمار نے کہا: "میں دل کی گہرائیوں سے دستور، پارلیمنٹ اور بابا صاحب امبیڈ کر کا احترام کرتا ہوں۔دستور میرے لئے سب سے مقدم ہے۔اس پر کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ایک شہری کی حیثیت سے میں اس کے خلاف جا ہی نہیں سکتا۔" اس کے بعد بھی کانگریسی لیڈر ملیکا ارجن کھرگے نے کہا کہ اننت کمار ہیگڈے نے بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کی ہے۔
لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے اننت کمار سے معافی مانگنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ :"کبھی کبھی زندگی میں ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے صحیح کہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دوسروں کو اس سے ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔"اس پر ہیگڈے نے کہا کہ"میرے الفاظ کو توڑمروڑ کر پیش کیاگیا ہے۔ پھر اگر اس سے کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں اس کے لئے معافی چاہتاہوں"۔
واضح رہے کہ آننت کمار ہیگڈے کے متنازعہ بیان پر وہ بی جے پی میں بھی اکیلے پڑ گئے تھے اور بی جے پی لیڈران بھی اُن کے مخالف ہوگئے تھے۔