نئی دہلی:29/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہار کے مظفر پور ضلع میں ایک سرکاری گرلس ہاسٹل میں بچیوں سے مبینہ زیادتی کیس میں سی بی آئی نے جانچ اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ ایک افسر نے آج اس کی اطلاع دی۔ یہ معاملہ مظفر پور کے بالیکا داخلہ میں رہ رہیں لڑکیوں کے ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد سے متعلق ہے۔ سی بی آئی نے گرلس ہاسٹل کے حکام اور ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سی بی آئی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ الزام ہے کہ ’سیوا سنکلپ اور وکاس سمیتی‘ کی طرف سے گرلس ہاسٹل کے حکام ، عملہ نے یہاں مقیم لڑکی کو ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کیا۔واضح ہو کہ یہ معاملہ اس وقت روشنی میں آیا جب اس سال کے اوائل میں ممبئی واقع ایک ادارے کی طرف سے گرلس ہاسٹل کے سوشل آڈٹ کی بنیاد پر بہار سماجی بہبود محکمہ نے ایک ایف آئی آر درج کرائی۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرلس ہاسٹل میں کئی لڑکیوں نے جنسی تشدد کی شکایت کی ہے۔ شکایات کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم کا قیام کیا گیا ہے۔ مظفر پور میں گرلس ہاسٹل چلانے والے غیر سرکاری تنظیم کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اور لڑکیوں کو پٹنہ اور مدھوبنی کے دوسرے گرلس ہاسٹل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی پولیس نے اس معاملے میں گرلس ہاسٹل کی خواتین ملازمین اور این جی او چلانے والے برجیش ٹھاکر کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔