نیویارک،4نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)مسیحی تنظیموں نے ترکی میں اس امریکی پادری کو جیل بھیجنے کے اقدام کی مذمت کی ہے جس کے خلاف عہدیداروں کے بقول قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بننے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ قبل ازیں اینڈریو برنسن کو حکام نے حراست میں لینے کے بعد ایک ماہ تک قید تنہائی میں رکھا تھا۔ترکی کے حکام اور مسیحیوں کے پروٹیسٹینٹ فرقے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اینڈریو پروٹیسٹنٹ مشنری کے طور پر بیس سال سے ترکی میں کام کر رہے تھے اور اب انہیں ازمیر کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ترک حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اور ان کی اہلیہ نورین برنسن جو ازمیر میں ایک پروٹیسٹنٹ چرچ چلا رہے تھے، کو سات اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔ نورین برنسن کو 20اکتوبر کر رہا کر دیا گیا اور انہیں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔تاہم بعدازں ترک عہدیداروں نے انہیں 10نومبر تک اپنے ویزے کی مدت کے خاتمے تک ملک میں رہنے کی اجازت دے دی۔ اں ہوں نے کہا کہ اینڈریو برنسن کو بھی ان کی رہائی کے بعد متوقع طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔
امریکہ میں قائم ایک مسیحی تنظیم ’’وائس آف دی پرسیکیوٹڈ‘‘ یعنی ’’ستم زدوں کی آواز‘‘اور ان کے ساتھ ساتھ ترکی کی پارلیمان میں حز ب اختلاف اور مسلم اکثریت والے اس ملک کے مسیحی پادریوں نے بھی نے ایندریو کے معاملے کو اٹھایا ہے۔وائس آف دی پرسیکیوٹڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت ترجیح نورین اور اینڈریو کو ترکی سے باہر حفاظت کے ساتھ لے کر جانا ہے۔ جو کہ ایسی بات ہے جو ملک بدری کے حکم نامے کے عین مطابق ہو۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نورین برنسن کو کسی بھی وقت زبردستی واپس جانے کا کہا جا سکتا ہے اور وہ اپنے شوہر کے بغیر ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی ہیں۔دوسری طرف ازمیر کے حراستی مرکز نے کہا کہ اینڈریو کے معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اب انقرہ میں وزارت داخلہ کے مائیگریشن منیجمنٹ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کے پاس ہے جنہوں نے اینڈریو کو حراست میں رکھنے اور ان کی ملک بدری کے بارے میں حکم نامہ جاری کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی عہدیدار اینڈریو کی حراست کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں تاہم پرائیویسی کی پیش نظر ہم اس بارے میں مزید بات نہیں کر سکتے ہیں۔ترکی کی پارلیمان کی ایک رکن سیلنیا دوغان جن کا تعلق ترکی میں حزب مخالف کی بڑی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی سے ہے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہوں نے اینڈریو کے معاملے کے بارے میں حکام سے پوچھا ہے لیکن اب تک ان کی طرف سے انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ دوغان چرچ کے عہدیداروں اور ان وکلاء سے رابطے میں ہیں جو اینڈریو کو رہا کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ترکی کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہاں پروٹیسٹینٹ مسیحیوں کی تعداد 10ہزار کے قریب ہے۔ مسیحی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ترکی کی حکومت مبینہ طور پر مسیحیوں کی خلاف مزید سخت اقدام کر رہی ہے۔ترکی میں پروٹیسٹنٹ کلیساؤں سے متعلق تنظیم کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران ایک سو غیر ملکی پروٹیسٹنٹ (پادریوں)کو ان کی ویزے اور یہاں مقیم رہنے کے اجازت ناموں کی مدت میں توسیع نہ کرتے ہوئے ترکی میں کام کرنے سے روکا گیا۔