نیویارک ، 20؍ستمبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران کئی اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کا اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے تاہم تجزیہ کاروں کے رائے میں نواز شریف اور حکومت پاکستان کی کوششوں کے باوجود عالمی برادری کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف ہی رہے گا۔وزیر اعظم نواز شریف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف اور نیوزی لینڈ کے ہم منصب جان کی سے ملاقاتیں کی ہیں جبکہ آج بروز منگل وہ ترک صدر رجب طیب اردگان اور جاپانی وزیر اعظم سے بھی ملیں گے۔نواز شریف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں دعویٰ کیا کہ کشمیر میں تازہ پرتشدد واقعات میں اب تک ایک سو سات شہریوں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہو کر معذور کر دیے گئے ہیں اور وادی میں ریاستی سطح پر انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا، مجھے آج بھی سابق امریکی صدر کلنٹن کا وعدہ یاد ہے کہ امریکہ ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تنازعات اور مسائل کے حل میں معاونت کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ کی موجودہ انتظامیہ اور وزیر خارجہ جان کیری برصغیر کے دو اہم ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے سے ملاقات میں نواز شریف نے ہندوستان کشمیر میں بگڑتی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں اور ہندوستانی جارحیت فوری بند ہونا چاہیے۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا دو ٹوک موقف بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر فوری عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔نواز شریف کی عالمی رہنماوں سے ملاقاتوں کے حوالے سے سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار صالح ظفر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے عالمی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی اقوام کو کشمیروں سے کیے گئے وعدوں سے رو گردانی کرنے نہیں دے گا۔
پاکستانی وزیر اعظم باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان اور ہندوستان کا نہیں بلکہ تمام دنیا بھر کے لیے نیوکلیر تھرٹ پوائنٹ ہے، لہذا جلد از جلد اس مسئلے کو بات چیت کے لیے حل کیا جانا ضروری ہے، لہذا ہندوستان پر دباو ڈالا جائے کہ وہ وادی میں طاقت کا بلاجواز استعمال بند کرے۔برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے سے ملاقات میں نواز شریف نے کشمیر میں بگڑتی صورت حال پر تبادلہ خیال بھی کیا۔نواز شریف نے جان کیری سے ملاقات میں کہا کہ کشمیر میں ریاستی سطح پر انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہے۔ خارجہ سکریٹری اعزاز چودھری نے نیو یارک میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ہندوستان کے دھمکی آمیز بیانات سے علاقائی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر صورتحال جنگ کی جانب نہیں جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہمیشہ امن کی خواہش اور کوشش رہی ہے۔اعزاز چودھری نے مشورہ دیا کہ ہندوستان پاکستان پر الزامات لگانے کے بجائے مسئلہ کشمیر پر توجہ دے۔ امریکہ کشمیر کے معاملے میں اہم کردار ادار کرسکتا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اسلام آباد حکومت کسی دباو میں نہیں آئے گی۔