بنگلورو۔28؍اکتوبر(ایس او نیوز)وزیر برائے قانون وپارلیمانی امور ٹی بی جئے چندرا نے آج بتایاکہ مرکزی وزارت زراعت اور کوآپریشن کے جوائنٹ سکریٹری کی قیادت والی مرکزی ٹیم خشک سالی کا جائزہ لینے 2؍ نومبر کو ریاست پہنچے گی۔ اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ریاست میں موجود خشک سالی کی صورتحال سے متعلق مرکزی وزیر زراعت کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے، جبکہ آج مرکزی وزیر داخلہ کو بھی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت سے 3373 کروڑ روپیوں کی امداد کی درخواست کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کاویری طاس علاقہ میں 88948ہیکٹر زمین پر کسانوں نے فصل کی بویائی نہیں کی ہے۔ جس سے فی ہیکٹر 13500 روپیوں کے حساب سے 120کروڑ روپے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ریاست کے 110تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیاہے۔ مزید 35تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیاجانے والا ہے۔مستقبل میں بارش کی قلت کے سبب مزید دشواریوں کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔وزیر موصوف نے بتایاکہ پیاز کی قیمتوں میں گراوٹ کے سبب حکومت کے ذریعہ فی کلو 6.24 روپیوں کی تائیدی قیمت فراہم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کوآپریٹیو فیڈریشن کے ذریعہ2؍ نومبر سے پیاز کی خریداری کا سلسلہ شروع ہوگا۔ اس کیلئے حکومت نے 50کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔