ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی ٹیم نے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

مرکزی ٹیم نے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

Fri, 04 Nov 2016 11:26:32    S.O. News Service

بنگلورو،3؍نومبر(ایس او نیوز)ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے دورۂ کرناٹک پر آئی ہوئی مرکزی ٹیم نے آج ٹمکور، رام نگرم اور میسور اضلاع کا دورہ کیا۔ مقامی عہدیداروں نے اس ٹیم کا استقبال کیا اور خشک سالی سے متاثرہ تمام تفصیلات کی جانکاری فراہم کی اور مختلف علاقوں کا دورہ بھی کروایا۔ ٹیم نے رام نگرم پہنچ کر وہاں مختلف تعلقہ جات کا دورہ کیا اور سرکاری افسران سے جانکاری حاصل کی ۔ ٹیم کو ٹمکور ضلع میں بارش کی قلت کے سبب سوکھ چکی ہزاروں ایکڑ زمین کا معائنہ کروایا گیااور فوری طور پر اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات مرکز کو تجویز کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹمکور ضلع کے دس تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیاجاچکا ہے۔آج صبح ٹمکور ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچنے والی ٹیم جس میں مرکزی محکمۂ توانائی کے سکریٹری کمل چوہان ،نیتی آیوگ کے ریسرچ آفیسر گنیش رام ، اور شہر میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیاکے ڈی جی ایم ایل چاترو نائک شامل ہیں۔ ٹیم نے رکن پارلیمان مدو ہنومے گوڈا اور ڈپٹی کمشنر کے بی موہن راج سے تبادلۂ خیال کیا۔ ٹمکور آمد پر وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا ، رکن پارلیمان مدو ہنومے گوڈا اور دیگر نے بھی ملاقات کرکے پانی کی قلت کے متعلق جانکاری فراہم کی۔ خاص طور پر یہاں کی زراعت ، باغبانی ، مویشی پالن اور محکمۂ پنچایت راج ومچھلی پالن علاقے کے عہدیداروں نے خشک سالی کے متعلق مرکزی ٹیم کو تفصیلات مہیا کرائیں۔ اضلاع میں پینے کے پانی کی قلت اور فصلوں کے نقصانات کے متعلق بھی اعلیٰ حکام نے تفصیلات پیش کیں۔ ٹمکور میں اس ٹیم نے تقریباً ایک گھنٹہ ڈپٹی کمشنر کے پی موہن راج کے ساتھ خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ بعد میں ٹمکور تعلقہ کے مختلف دیہاتوں کا دورہ کرکے بدحال کسانوں سے احوال معلوم کیا۔کورٹگیرے ، مدھوگری اور پاؤگڈھ کے بھی مختلف دیہاتوں کا اس ٹیم نے دورہ کیا۔ یہاں افسران نے ٹیم کو بتایا کہ پچھلے تین چار سال سے بارش معمول کے مطابق نہیں ہورہی ہے، کسان قرضہ حاصل کرکے فصل کی بویائی کرتے ہیں، لیکن بارش نہ ہونے کے سبب فصل تباہ ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو خود کشی پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ بارش کی قلت کے سبب زیر زمین پانی کی سطح میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ 1400فیٹ کھدائی کے باوجود بھی بورویلوں میں پانی میسر نہیں ہے۔ ضلع بھر میں کسانوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ضلع انچارج وزیر ٹی بی جئے چندرا نے بھی ٹیم کو ضلع میں زرعی شعبے کی زبوں حالی اور پانی کی قلت کے بارے میں جانکاری فراہم کی ۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ ضلع میں گؤ شالاؤں کو چارے کی فراہمی ، باغبانی اور زرعی فصلوں کے نقصان پر راحت کاری وغیرہ کیلئے 366کروڑ روپے درکار ہیں۔ میسور جانے والی ٹیم نے وہاں اعلیٰ حکام کے ساتھ جائزہ لیا اور یہاں ٹیم کو بتایا گیا کہ ضلع میں عموماً سالانہ 723 ملی میٹر بارش ہوا کرتی ہے لیکن اس بار یہ گھٹ کر 408 ملی میٹر تک پہنچ چکی ہے، یہاں کے کسان راگی ، جوار ، باجرا ، تمباکو وغیرہ کی فصلیں بوتے ہیں ، لیکن ان فصلوں کو بارش نہ ہونے کے سبب بھاری نقصان پہنچا ہے۔ افسران نے بتایاکہ اب تک ضلع بھر میں 79 کروڑ روپیوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 


Share: