بنگلورو۔یکم نومبر(ایس او نیوز)ریاست کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی ٹیم بنگلور پہنچے گی۔ ریاستی حکومت نے 139تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے یہاں فوری راحت کاری کیلئے مرکزی حکومت سے 3375کروڑ روپیوں کی فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت کے اس مطالبہ کے فوراً بعد ریاست پہنچ کر جائزہ لینے کیلئے مرکزی حکومت نے ایک ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق کل مرکزی وزارت ز راعت کے جوائٹ سکریٹری اے نیرجا کی قیادت میں اعلیٰ سطحی ٹیم ریاست پہنچے گی۔ خشک سالی کے ساتھ حیدرآباد۔کرناٹک کے سیلاب زدہ علاقوں کا بھی یہ ٹیم دورہ کرے گی۔ دو دنوں تک یہ ٹیم تین حصوں میں بٹ کر ریاست کے مختلف اضلاع اور تعلقہ جات کا دورہ کرے گی اور فوری طور پر مرکزکو رپورٹ پیش کرے گی۔ شمالی کینرا ، بلاری، رائچور، گلبرگہ ،بیدر، بنگلور اربن ، بنگلور رورل ، کولار ، چکبالاپور، ٹمکور، رام نگرم، گدگ ، ہاویری ، یادگیر، نیز متعدد اضلاع کا یہ ٹیم اگلے دو دنوں میں دورہ کرے گی۔ اس ٹیم کو ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرانے کیلئے محکمۂ زراعت اور محکمۂ مالگذاری کی طرف سے تیاری کی جاچکی ہے۔ ٹیم کے پروگرام کے مطابق ہر ضلع کے دو یا تین مقامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے وزیر زراعت کرشنا بائرے گوڈا اور دیگر اعلیٰ افسران خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرائیں گے، ساتھ ہی وزیر مالگذاری کاگوڈ تمپا سے بھی یہ ٹیم تبادلۂ خیال کرے گی۔ گزشتہ ہفتے کاگوڈتمپا اور کرشنا بائرے گوڈا نے مرکزی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ سے ملاقات کی اور کرناٹک میں خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ کی فہرست پیش کرنے کے ساتھ فوری طور پر درکار راحت کاری کی تفصیلات بتائیں۔ اس ٹیم نے بتایا تھاکہ ریاست میں خشک سالی کے سبب 12؍ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔جبکہ 25.57 لاکھ ہیکڑ زمین پر فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ گزشتہ سال ریاست میں بارش کے مکمل ناکام ہوجانے کے سبب فصلوں کو یہ بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اس نمائندگی کے فوراً بعد وزیر موصوف نے مطالبہ کا جائزہ لینے ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔