کاروار17؍دسمبر (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ ہوناور تعلقہ سے شروع ہونے والا فرقہ وارانہ فساد اور تناؤ بڑھتے بڑھتے پورے ضلع کا امن و امان ختم کرنے کا باعث بن جائے گا۔ یوں تو ہوناور اور آس پاس کے حالات بظاہر پر ا من ہوتے نظر آرہے ہیں، لیکن کشیدگی کے چھوٹے موٹے واقعات یا پھر دن بدن پھیلائی جارہی افواہوں کی وجہ سے لوگوں کا چین اور سکون غائب ہوگیا ہے۔
ایسے حالات میں ضلع کے رکن پارلیمان اور مرکزی وزیراننت کمار ہیگڈے ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کرنے کے بجائے اپنی بڑائی بیان کرنے، خواہ مخواہ کی شیخیاں بگھارنے اور کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں کے جذبات کوایک فرقے کے خلاف مشتعل کرنے کی مسلسل کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔جبکہ دوسری طرف بھٹکل ہوناور ، انکولہ اور کاروار کے برسر اقتدار پارٹی کے اراکین اسمبلی ہیں، جو حالات کی ابتری کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی صرف اپنے ووٹ بینک کو کسی نقصان سے بچانے کے لئے چپ سادھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔منتخب عوامی نمائندوں کی اس خاموشی سے سب سے زیاد ہ پولیس کا اعتماد اور سرگرمی متاثر ہورہی ہے۔ کیونکہ عوام کے اندر پیدا ہونے والے خوف وہراس کو دور کرنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے میں عوامی نمائندوں کا تعاون پولیس کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اپنے انتخابی مفاد کو سامنے رکھ کراور تمام تر ذمہ داری صرف پولیس افسران پر ڈال کر ان اراکین اسمبلی کا پردے کے پیچھے چلاجانایقیناًافسوسناک ہے۔
فسادیوں کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کوایک بڑا جھٹکا اس وقت بھی لگا جب سرسی میں ہنگامہ آرائی کے بعد جن62ملزمین کو جیل بھیجا گیاتھا اور ان پر قتل کی کوشش کی دفعہ 307کے تحت بھی کیس درج ہوئے تھے ان سب کو دو دن کے اندر ہی سیشنس عدالت نے ضمانت پر رہائی دے دی ۔پتہ چلا ہے کہ پولیس نے بھی مزید اقدام کرتے ہوئے ضمانت پررہا ہونے والے انہی 62افراد پر 9اضافی دفعات کے تحت نئے مقدمے درج کیے تھے اور عدالت سے باڈی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد انہیں اپنی تحویل میں لینے کے لئے جب تک پولیس دھارواڑ جیل پہنچتی تب تک ہندوتنظیموں کے لیڈرجیل میں بند ملزمین کو باہر نکال کر اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے، اور کوئی بھی ملزم پولیس کے ہاتھ نہیں لگا ۔ اس سے بھی پولیس افسران کی ایک طرح سے سُبکی ہوئی ہے۔
حالانکہ بدامنی پھیلانے کے الزام میں پولیس زیادہ سے زیاد ہ افراد کو گرفتارکرنے کی کوشش میں جٹی ہوئی ہے،اور تقریباً ہر ایک پر دفعہ 307لگارہی ہے لیکن بی جے پی والے اس سے بھی ناجائز فائدہ اٹھانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ وہ اسے بے قصوروں کی گرفتاری اور پولیس کا جبر و ستم قرار دے کر نئے انداز سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے منصوبے بنارہے ہیں۔البتہ ایک بات یہ بھی سچ ہے کہ پولیس نے جو کڑا رخ اختیار کیا ہے اس سے کچھ وقت کے لئے ہی سہی بی جے پی کے احتجاجی مظاہروں اور ہنگامہ آرائی پر کچھ روک تو لگ گئی ہے۔ مگروہ سنگھ پریوار ہی کیا جو جلتی پر تیل ڈالنے کا کام نہ کرے اور فرقہ واریت کی آگ میں اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے سے باز آجائے!