4500 کے بجائے 2000 روپے رقم دینے پر سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا سوال
نئی دہلی 18؍ نومبر(ایجنسی)ایک ہی ہفتے میں دوسری بار مرکزی حکومت کو نوٹ بندی کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑاہے، اور جمعہ کو عدالت نے کہاکہ سڑکوں پر فسادات ہو جائیں گے،اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو کوئی ریلیف نہیں دیتے ہوئے کسی بھی نچلی کورٹ یا ہائی کورٹ میں نوٹ بندی سے منسلک کسی بھی معاملے کی سماعت پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو اچانک بند کئے جانے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ بہت سنگین ہے۔الگ الگ ہائی کورٹوں میں چل رہے مقدمات کی سماعت پر روک سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ان معاملات کو ٹرانسفر کروانے کے لئے ٹرانسفر پیٹشن داخل کرنی ہوں گی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ نوٹ بندی سے لوگوں کو پریشانیاں ہو رہی ہیں، اور اس حقیقت سے مرکزی حکومت انکار نہیں کر سکتی،چیف جسٹس نے کہا کہ صورت حال سنگین ہو رہی ہے، اور ایسے حالات میں گلیوں میں فسادات بھی ہو سکتے ہیں،چیف جسٹس کے مطابق، یہ معاملہ ’’ہائی میگنیٹیوڈ‘‘ کا ہے، کیونکہ اس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا، سب لوگ امداد کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں نہیں آ سکتے، اور جو لوگ امداد کے لئے کورٹ جا رہے ہیں، وہ ثابت کر رہے ہیں کہ حالات سنگین ہیں۔
چیف جسٹس نے حکومت سے سوال کیاکہ آپ نے 500 اور 1000روپے کے نوٹوں کو بند کیا ہے، لیکن 100 روپے کے نوٹ کا کیا ہوا؟،جواب میں حکومت نے کہا کہ موجودہ وقت میں اے ٹی ایم مشینوں میں صرف 100 روپے کے نوٹ کے لئے ایک ہی ٹرے ر لگا ہوا ہے، اس لیے نئے نوٹوں کے لحاظ سے انہیں ری کیلبریٹ کرنا ہوگا۔لیکن عدالت نے اس کے بعد بھی سوال کئے،چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا، پچھلی بار آپ نے کہا تھا کہ آپ عوام کو راحت دینے کی سمت میں کام کر رہے ہیں، لیکن آپ نے تو رقم کو کم کرکے 2000روپے کر دیا۔۔۔مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟ کیا یہ چھپائی(نوٹوں کی چھپائی) سے متعلق پریشانی ہے۔۔۔؟۔
حکومت نے جمعہ سے ہی پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ دینے کے لئے 4500 روپے کی حد کو کم کرکے 2000روپے کر دیا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے زیادہ لوگوں کو نقد رقم مل سکے گی۔حکومت کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا، صرف چھپائی نہیں،،نوٹوں کو ملک بھر میں پھیلے بینکوں کی شاخوں تک پہنچانا بھی ہے، اور اے ٹی ایم کو بھی ری کیلبریٹ کیا جانا ہے۔ویسے، ہم نے کسانوں، شادی کرنے والوں اور چھوٹے تاجروں کو راحت دی ہے ۔