بنگلورو۔22/دسمبر(ایس او نیوز) لوک سبھا میں کانگریس پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے نے مرکز کی مودی قیادت والی حکومت کو من مانے فیصلے کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان فیصلوں سے ملک کا انتظامیہ درہم برہم ہوچکا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 8 نومبر کو نوٹوں پر پابندی کے بعد سے پچھلے 45 دنوں میں یہحکومت ہر دن ایک نیا فرمان جاری کررہی ہے اور سارے ملک کو انتشار میں ڈھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم مودی اور ان کے وزراء تغلق دربار کی مانند حکومت چلارہے ہیں۔ ہر دن ملک کے عوام پر حکومت یا آر بی آئی کی طرف سے ایک نیا ضابطہ مسلط کیا جارہا ہے اورعوام کی مزاحمت کے بعد اس ضابطہ کو واپس لینے پر مرکزی حکومت مجبور ہورہی ہے۔انتظامیہ کے ساتھ اس طرح کا بھدا مزاق نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ نوٹوں پر پابندی لگانے کے بعد حکومت کو متبادل انتظامات کرنے چاہئے تھے، لیکن پرانے نوٹوں کی خطیر رقم عوام سے چھین لینے کے بعد اب انہیں انہی کی رقم دینے کیلئے بینکوں میں ستایا جارہاہے۔ عوام پر اس طرح کا ظلم اب برداشت کی حدود سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ آنے والے دنوں میں مختلف ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں عوام اس کا جواب ضرور دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی کا فیصلہ اگر ملک کے حق میں خیرکا سبب ہوتا تو یقینا ملک کے عوام کو اتنی طویل مصائب کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ بڑے ہی جوش وخروش کے ساتھ کالے دھن کو واپس لانے کا اعلان کرکے وزیراعظم مودی نے نوٹ بندی لاگو کی، لیکن اس کے بعد سے مرکزی حکومت کو ہی یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت کچھ کہتی ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا کا فرمان کچھ اور آتا ہے، اس کی وجہ سے حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک میں ملک کے امیروں نے جو کالا دھن چھپا رکھا ہے اسے ملک واپس لانے میں مودی پوری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 90 فیصد کالا دھن بیرون ممالک میں چھپایا گیا ہے، مودی نے اس رقم کو ملک میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن نوٹ بندی کے سبب عوام کی محنت کی کمائی ان سے چھین کر اب یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کالا دھن واپس لانے کیلئے حکومت نے ٹھوس قدم اٹھائے ہیں۔جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے جو نوٹ بندی کا فیصلہ کیا ہے وہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ اور احمقانہ فیصلہ ہے۔ خود دنیا کے معروف ماہر معاشیات سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو سب سے بڑے دھوکے اور لوٹ سے تعبیر کیا ہے۔