نئی دہلی، 10/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) نوٹ بندی معاملے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ پرانے نوٹوں کو جمع کرنے کی میعادنہیں بڑھائی جا سکتی ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر کوئی طے حد سے زیادہ پرانے نوٹ رکھتا ہے تو یہ جرم کے زمرے میں آتاہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ پہلے نوٹیفکیشن میں آپ نے پرانے نوٹ کو جمع کرنے کی گنجائش رکھی تھی لیکن بعد میں ختم کر دی۔ آپ کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ پرانے نوٹوں کو جمع کرانے کی میعاد کو ہم بڑھاسکتے ہیں؟۔ دراصل درخواست گزار نے عدالت سے کہا کہ ہمیں پرانے نوٹ جمع کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ جمع کرنے کا وقت 31 مارچ تک ہے۔ سپریم کورٹ نوٹ بندی معاملے میں داخل درخواستوں پر 21 مارچ کو سماعت کرے گا۔نوٹ بندی معاملے میں داخل درخواستوں پر سپریم کورٹ سماعت کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل مفاد عامہ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پہلے وزیر اعظم اور آر بی آئی نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ کسی صحیح وجہ سے پرانے نوٹ جمع نہیں کر پائے ہیں وہ 31 مارچ تک آر بی آئی میں جمع کرا سکتے ہیں۔ لیکن بعد میں یہ حد 30 دسمبر 2016 تک ہی کر دی گئی۔ یہ چھوٹ 31 مارچ 2017 تک این آر آئی کو ہی دی گئی ہے۔پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے پوچھا تھا کہ کیوں نہ پرانے نوٹ تبدیل کرنے کی ڈیڈ لائن سب کے لئے 31 مارچ کر دی جائے؟۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور آر بی آئی کو نوٹس جاری کرکے جمعہ 10 مارچ تک جواب طلب کیا تھا۔ درخواستوں میں کہاگیاہے کہ چونکہ لوگوں کے لئے حکومت نے یہ اعلان کیا تھا اس لئے سپریم کورٹ حکومت کو حکم دے کہ وہ سب کے لئے پرانے نوٹ جمع کرنے کی حد31 مارچ تک کرے۔