ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہبی ظلم کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی:راج ناتھ

مذہبی ظلم کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی:راج ناتھ

Sat, 15 Oct 2016 12:36:50    S.O. News Service

نئی دہلی، 14؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان کو ’’رواداری کی یونیورسٹی‘‘بتاتے ہوئے آج کہا کہ ملک میں مذہبی ظلم و ستم کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی۔سنگھ نے یہاں انڈیا کرسچن کونسل کی طرف سے منعقد ایک اجلاس میں کہا کہ پرامن بقائے باہمی کے لئے رواداری ضروری ہے،ہندوستان میں تمام مذاہب کے لوگ پرامن طریقے سے رہتے ہیں اور امتیاز کے بغیر اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہندوستان رواداری کی یونیورسٹی ہے۔سنگھ نے کہا کہ عیسائی مذہب ہندوستان میں تقریبا 2000سال پہلے آیا اور کیرالہ میں سینٹ تھامس چرچ ہے جو دنیا کے سب سے پرانی گرجاگھروں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان سینٹ تھامس سے لے کر مدر ٹریسا تک عیسائیوں کی شراکت کو نہیں بھلا سکتا، جنہوں نے ہمارے معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ دہلی میں گرجاگھروں پر حملے کے واقعات ہوئے، جو دہلی اسمبلی انتخابات سے پہلے ہوئے تھے لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ انتخابات سے پہلے یا بعد میں مذہبی ظلم و ستم کی ہندوستان میں کبھی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے پاکستان پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے ایک جمہوری ملک رہنے کواختیار کیا جبکہ پاکستان نے خود کو ایک مذہب کا ملک قرار دیا۔سنگھ نے کہاکہ 1947میں ہندوستان کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی اور اس کے باوجود اس نے ایک جمہوری ملک رہنے کا اختیار منتخب کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذہبی بنیادپراپنا قیام کیا،یہ ملک دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ ممالک نے دہشت گردی کو سرکاری پالیسی بنا لی ہے،لوگوں کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے لیکن بندوق اٹھا کر نہیں۔سنگھ نے کہا کہ ایک دہشت گرد کی کوئی ذات، عقیدہ یا مذہب نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا میں بہت سے ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں،ایک دہشت گردتودہشت گرد ہے جو کسی ذات، عقیدہ یا مذہب سے منسلک نہیں ہوتا،تاہم کچھ لوگ دہشت گردی کو مذہب سے جوڑتے ہیں لیکن یہ غلط ہے۔


Share: