بھٹکل 14/ستمبر(ایس او نیوز)دھرمستھلا کے دھرم ادھیکاری ڈاکٹر ویریندرا یؤہیگّڈے نے کہا کہ انسان اپنے دکھ درد اور مسائل کے حل کے لئے بھگوان کے قدموں میں جاپڑتا ہے۔ لیکن انسان کو اس کے مقصد میں کامیابی اسی وقت ملتی ہے جب وہ اسے پانے کے لئے محنت اور جدو جہد کرتا ہے۔
ڈاکٹر ہیگّڈے نے بھٹکل تعلقہ کے بینگرے میں ماروتی سومیا نائک کے باغ میں ہونے والی ترقی کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال در سال غذائی اجناس کی ضرورت اور مطالبہ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس طرح خرچ میں بھی بڑھوتری ہوتی جارہی ہے۔اس کی وجہ سے انسانوں کا طرز زندگی ہی بدل جاتا ہے۔گوبر اور دوسرے قدرتی اجزا کی کھاد کے بدلے اب غذائی اجناس اگانے کے لئے کیمیکل کا استعمال عام ہوگیا ہے۔روایتی کاشتکاری کے طریقے اب پوری طرح ختم ہوچکے ہیں۔ اب زندگی کے ان قدیم اقدارمیں سے جو کچھ بھی باقی ہے اسے بچائے رکھنے کی جدوجہد ضروری ہوگئی ہے۔ کسان بدلتے حالات کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ مگر صرف خواب دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کی تعبیر کے لئے بھی آدمی کو کوشش کرنی ہوتی ہے۔
انہوں نے دھرمستھلادیہی ترقی اسکیم کے تحت حاصل کیے قرضوں کا صحیح استعمال کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے کسانوں کے لئے بہت ساری اسکیمیں جاری کی گئی ہیں، ان کاصحیح استعمال کرکے فائدہ اٹھایا جائے۔اس پروگرام میں اسٹیج پر ایم ایل اے منکال ویدیا،ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر،سابق ایم ایل اے مسٹر جے ڈی نائک،بینگرے گرام پنچایت صدر وینکٹیا بھئیر منے، چندرا گوڈا وغیر ہ موجود تھے۔