جموں،29جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دیش بھکت پارٹی بی جے پی کی اتحادی جموں وکشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے ذریعہ ہندستانی قومی پرچم پر دیئے گئے متنازعہ بیان کے خلاف پارٹی کے سرپرست اعلی ٰپروفیسر بھیم سنگھ کی قیادت میں نیشنل پنتھرس پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے جنترمنترپر زوردار مظاہرہ کیا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں وزیراعلیٰ کے خلاف معاملہ درج کرنے کے لیے شکایت بھی دی۔ محبوبہ مفتی نے گزشتہ روز دیئے گئے بیان میں کہاتھا کہ حکومت ہند کی طرف سے آرٹیکل 35 اے میں کوئی بھی ترمیم ناقابل قبول ہوگی۔ مفتی کے کہنے کے مطابق کہ کشمیر میں کوئی بھی قومی پرچم کی لاش کو اٹھانے کو تیار نہیں ہو گا، وہ یہ واضح کردیناچاہتی ہیں۔دہلی پردیش نیشنل پنتھرس پارٹی کے صدر راجیو جولی کھوسلا نے 56 انچ کے سینے والے معزز ہندستان کے قومی سرپرست وزیر اعظم مودی جی سے دریافت کیا کہ وہ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں آپ۔ پورے ہندستان کے عوام آپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ محبوبہ مفتی کے اس بیان کا آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب سے بی جے پی۔پی ڈی پی اتحاد ہوا ہے تبھی سے پاکستان کا پرچم وادی میں لہرایا جانا اور ہندستانی کے قومی پرچم کی توہین کرنا کھل عام چل رہا تھا آج تو ان سب کے پیچھے رہنے والی وزیراعلیٰ کابھی چہرہ سامنے آ گیا، جنہوں نے یہ بیان دے کر ثابت کر دیا کہ جموں وکشمیرحکومت ہندستان کے وزیر اعظم کو بھی آنکھیں دکھانے میں پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ پتہ نہیں وزیر اعظم کی کیا کمزوری ہے کہ وہ خاموش بیٹھے ہیں۔ اب اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلی کو فوری طور پر برخاست کر دیا جائے اور حکومت کو تحلیل کرکے گورنر راج نافذ کیا جائے، آرٹیکل 35 اے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور دفعہ 370 میں صدر کی طرف سے ترمیم کی جائے جس سے ہندوستانی قانون اور ہندستانی پارلیمنٹ کا جموں و کشمیر میں مکمل دخل یقینی بن سکے۔آج اس مظاہرہ میں حصہ لینے والوں میں راجیو جولی کھوسلا، رومیش کھجوریہ، آر پی شرما، سرجیت سنگھ گلیریا، کفایت حسین رضوی، دلدار حسین بیگ، محمد نصیب، محمد سلیم، افلاطون، اے جے راجن، اوم کشن، رینا سنگھ، گوپال رائے، کے کے راگھو، رومیش شرما، چھترسنگھ، پریم سنگھ، جگدیپ سنگھ وغیرہ شامل تھے۔