ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مجھے وہ10 سال کون لوٹائے گا جو جیل میں ضائع ہو گئے؟جیل سے گھر پہنچنے کے بعد پروفیسر سائی بابا نے اپنا درد بیان کیا

مجھے وہ10 سال کون لوٹائے گا جو جیل میں ضائع ہو گئے؟جیل سے گھر پہنچنے کے بعد پروفیسر سائی بابا نے اپنا درد بیان کیا

Sat, 09 Mar 2024 11:54:14    S.O. News Service

ناگپور، 9/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی ) 10 سال تک قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد رہا ہونے والے دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی  این سائی بابا  نے اپنے گھر پہنچنے کے بعد  میڈیا کے سامنے اپنا درد بیان کیا۔   انہوں نے کہا کہ ’’ مجھے انسانیت کی خدمت کرنے کی پاداش میں جھوٹے الزام میں پھنساکر جیل میں ڈالا گیا۔‘‘

  سائی بابا نے کہا’’ میں10 سال پہلے دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ میرا کیریئر اپنے عروج پر تھا۔ ایسی صورت میں مجھے جھوٹے مقدمے میں قید کر دیا گیا۔ آج چاہے میں بے گناہ ٹہرائے جانے کے بعد سراونچا کرکے چلوں لیکن وہ10 سال مجھے اور میرے خاندان کو کون واپس لوٹائے گا جو اس دوران ضائع ہو گئے؟‘‘  یاد رہے کہ سائی بابا پر   ماؤنواز کے ساتھ تعلقات ہونے کا الزام لگایا گیا تھا  لیکن پولیس عدالت میں اس تعلق سے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ بالآخر سپریم کورٹ نے  انہیں رہا کرنےکا حکم سنایا اور وہ جمعرات کو جیل سے باہر آئے ۔

  اس پریس کانفرنس میں سائی بابا کی اہلیہ  وسنتا کماری  اور ان کے وکیل ایڈوکیٹ نہال سنگھ راٹھور بھی  موجود تھے۔ انہوں نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ مجھ پر جھوٹا الزام لگا کر جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ جیل میں مجھے ضروری طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ جب میں جیل گیا تو میری معذوری کے علاوہ مجھے اور کوئی شکایت نہیں تھی بلکہ  میری صحت اچھی تھی۔‘‘ یاد رہے کہ سائی بابا پیروں سے معذور ہیں ۔ انہوں نے کہا’’  آج میرا بایاں بازو حرکت نہیں کرتا، میرا دل صر ف 55  فیصد کام کر رہا ہے۔   میں جیل سے زندہ نکل آیا ہوں، یہ محض ایک کرشمہ ہے۔ مجھے اس کا یقین نہیں تھا کہ میں زندہ لوٹوں گا۔‘‘

  ماضی کو یاد کرتے ہوئے سائی بابا نے بتایا کہ’’10 سال پہلے  سابق جج جسٹس سچر، سابق رجسٹریشن افسر سریندر موہن جیسے لوگوں نے مجھ سے حقوق انسانی کے لئے متحرک تنظیم میں تعاون کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس وقت’’ گرین ہنٹ‘‘ اور’’ سلوا جوڈوم‘ جیسے آپریشن شروع کئے گئے تھے۔‘‘  انہوں نے کہا’’ ان حالات میں میں نے انسانی حقوق کیلئے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے ذمے دستاویزات اکٹھا کرنے کا کام تھا۔ میں ایسے معاملات میں بین الاقوامی سطح پر بھی کام کرچکا ہوں۔‘‘ سائی بابا نے جذباتی انداز میں کہا ’’مجھے انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے کی پاداش میں ہی جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مجھ پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ میں ماؤ ازم کا بین الاقوامی رابطہ کار ہوں۔‘‘

  اس موقع پر سائی بابا نے ان لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اس برے وقت میں ان کا ساتھ دیا اور ان کیلئے قانونی جدوجہد کرتے رہے۔ ا نہوں نے کہا’’  قسمت جب  میراساتھ نہیں دے رہی تھی تب سینئر وکیل سبودھ دھرمادھیکاری نے عدالت میں میرا موقف  پیش کیا، میں ان کا اور وکلاء کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا ’’میں جب جیل میں تھا سریندر گڈلنگ نے میری رہائی کیلئے بہت کوشش کیں ۔‘‘ سائی بابا نے دکھ اظہار کرتے ہوئے کہا’’ لیکن یہ میرے لئے بہت دکھ کی بات ہے کہ وہ آج جیل میں ہیں۔ اس معاملے میں ایک اور شریک ملزم پانڈو نروٹی کی ٹرائل کے دوران موت ہو گئی۔ اس نے اسپتال میں میرے سامنے آخری سانسیں لیں۔‘‘

  سائی بابا نے کربناک لہجے میں کہا’’ اگر وہ زندہ ہوتا تو  اسے آج میرے ساتھ  رہا کر دیا گیا ہوتا ، لیکن اس کی گزشتہ زندگی کون لوٹاتا؟ ‘‘سائی بابا نے افسوس  کے ساتھ کہا کہ  ملک میں آئین کا نفاذ نہیں ہوا ہے۔  اگر آئین کا ۵۰؍ فیصد حصے کا بھی نفاذ ہو جائے تو ہم جیسے لوگوں کو مظالم سے بچایا جا سکتا ہے۔‘‘


Share: