بنگلورو 26؍دسمبر (ایس او نیوز) مرکزی وزیر مملکت اننت کمار ہیگڈے نے اپنے وزارتی قلمدان(اسکِل ڈیولپمنٹ) کو بغیر پانی والا کنواں قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدا میں وہ اسے ایک عمدہ قلمدان سمجھ رہے تھے مگر وزارت سنبھالنے کے بعد حقیقت معلوم ہوئی کہ یہ ایک اندھا کنواں ہے۔
بنگلورو میں انڈین سائنس ایسو سی ایشن کے احاطے میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے جنم دن سے متعلق ایک پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اپنی تقریر کے دوران ہیگڈے نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ نوجوان تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں اور انہیں ملازمت درکار ہوتی ہے۔ لیکن ان کے پاس موجود اسناد کے اعتبار سے ان کے اندر صلاحیتیں نہیں پائی جاتیں۔ آج کل لوگ محنت و مشقت کرنا ہی نہیں چاہتے۔جو لوگ مشقت سے اپنی زندگی بنانا چاہتے ہیں ان کے لئے اسکِل ڈیولپمنٹ وزارت سے تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔
موجودہ سیاست کے بارے میں اننت کمار ہیگڈے نے کہا کہ یہ مال اور مذہب پر ٹکی ہوئی ہے، اور اسی پر بحث ہوا کرتی ہے ۔ اس سے ہٹ کر دوسرے موضوع پر بحث غور نہیں کیا جاتا۔ریاستی حکومت کی طرف سے جاری 'انّا بھاگیہ'(بھوکو ں کو کھانا کھلانے والی)اسکیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھوکوں کا پیٹ بھرنے کا نام اچھی حکومت نہیں ہے، بلکہ محنت سے زندگی جینے کا طریقہ سکھانا اچھی حکومت کہلاتا ہے۔حکومت چلانے میں عوام کا بھر پور ساتھ ہونا چاہیے۔ ۔
اننت کمار نے ریاستی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ نااہل افراد کو ووٹ کو دے کر اہل حکومت کی توقع کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ سیاسی زندگی کو پوجا کا کمرہ نہ سمجھیں بلکہ یہ ایک حمام ہے۔ پوجا کا کمرہ اگرایک دن صاف نہیں کریں گے تو کوئی بات نہیں ، لیکن اگر حما م کو صاف نہیں کیا گیا تو وہاں سے بدبو نکلنے لگتی ہے ۔ اس لئے اس کی بار بار صفائی ہونی چاہیے۔ اور جو لوگ سیاست میں ملوث ہیں انہیں اپنے جسم کے ساتھ دل و دماغ کو بھی صاف کرنا چاہیے۔ اب اس کا مطلب جو بھی جس انداز میں لینا چاہے وہ لے سکتا ہے!