شاہ جہاں پور،26؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گزشتہ ہفتے آسارام کی حمایت میں شہر میں اخبار کے ساتھ تقسیم شدہ میگزین کی تقسیم کے بعد پر آبروریزی کا الزام لگانے والی متاثرہ کے والد کی جانب سے آسارام اور ان کی بیٹی سمیت 12افراد پر مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ (شہر) دنیش ترپاٹھی نے بتایا کہ گذشتہ 22دسمبر کو شہر میں اخبار کے ساتھ ایک میگزین کو رکھ کر تقسیم کیا گیا تھا، جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ آسا رام پر آبروریزی کے تمام الزامات غلط ہیں اور ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔اس میگزین میں ایک طبی رپورٹ دکھاتے ہوئے یہ بھی دعوی کیاگیاتھا کہ یہ متاثرہ کی مبینہ طبی رپورٹ ہے، اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ریپ ہواہی نہیں۔اس کے علاوہ اس میگزین میں بھی کہا گیا تھا کہ جیل میں بندآسارام کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیاگیاتھا۔اس کے بعد متاثرہ کے والد نے کہاکہ آسارام جیل میں بند ہے لیکن اس کے بعد بھی وہ اپنے غنڈوں کے ذریعے ان کے خاندان کو ختم کرنا چاہتا ہے۔میگزین میں جو دعوی کیا گیا تھا وہ مکمل طور پر غلط تھا،یہ ان کے خاندان کے خلاف سازش ہے۔آسارام کے غنڈوں کے اس عمل کے بعد ان کا خاندان بہت ڈراہواہے۔متاثرہ کے والد کی تحریر پرآسارام کی بیٹی بھگوان بھارتی سمیت 12افراد پر آئی پی سی کی دفعہ 147(بلوا)اور 506(دھمکانا) کے تحت زیر التواء ہیں۔واضح رہے کہ ضلع میں گذشتہ 22دسمبر کو روزانہ اخبار کے ساتھ تقسیم شدہ ایک میگزین میں آسارام پر لگے بدسلوکی کے الزامات کو غلط قرار دیا گیا تھا۔