بنگلورو:18/ جولائی(ایس او نیوز) ریاست میں دن بدن مانسون کی ناکامی کے سبب خشک سالی کی بگڑتی صورتحال اور ایک بار پھر پانی کی قلت کے سبب فصلوں کے ناکام ہوجانے کے اندیشوں کو دیکھتے ہوئے محکمہئ زراعت نے راحت کاری کے طویل مدتی منصوبے کی ترتیب شروع کردی ہے۔ محکمہئ موسمیات نے محکمہئ زراعت کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ مانسون کے تحت جتنی بارش کی توقع کی گئی ہے رواں سال اتنی بارش ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ سال گزشتہ کے مقابل امسال بارش کی مقدار میں 15تا20 فیصد کمی کا اندیشہ ظاہر کیاگیاہے۔ محکمہئ موسمیات نے کاشتکار طبقے کو متنبہ کیا ہے کہ وہ خشک سالی کی اور سنگین صورتحال سے دو چار ہوسکتاہے۔ کرناٹک کے محکمہئ آفات سماوی کی اطلاعات کے مطابق ریاست میں یکم جون سے اب تک بارش میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ یکم جولائی سے اب تک ہوئی بارش معمول کے مقابل 46 فیصد کم ہے، جس سے ریاست کے کسی بھی آبی ذخیرہ میں پانی جمع نہیں ہوپایا ہے۔ یہاں تک کہ بارش کی کمی کے سبب چھوٹے موٹے تالاب بھی بھر نہیں پائے، جن پر دیہی علاقوں میں عوام تکیہ کرتے ہیں۔ یکم جون سے پندرہ جولائی تک ریاست میں عموماً 348 ایم ایم بارش ہونی چاہئے تھی، لیکن اس بار صرف 248 ایم ایم بارش ہوئی ہے۔ ریاست کے جنوبی اندرونی علاقوں میں یہ اوسط اور بھی کم ہے۔ یہاں بارش کی 42 فیصد کمی محسوس کی گئی ہے، جبکہ ملناڈ علاقوں میں جو موسلادھار بارشوں کیلئے مشہور ہیں 36 فیصد بارش کم ہوئی ہے۔ بارش کی اس کمی کے سبب اب تک ریاست کے جنوبی اندرونی اور ملناڈ علاقوں میں کاشتکاری اور فصل بونے کا عمل شروع نہیں کیاگیا ہے۔ جولائی کے اختتام تک اگر بارشوں کا سلسلہ چل پڑا تو ریاست میں خشک سالی کی صورتحال سے قدر ے راحت مل سکتی ہے۔ ماہر موسمیات وی ایس پرکاش کے مطابق ایک ہفتہ کے دوران اگر اچھی بارش ہوتی ہے تو فصلوں کو کافی حد تک بچایا جاسکتاہے، لیکن اگر بارش نہ ہوئی تو سال بھر کی فصلیں متاثر ہوجائیں گی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ابھی سے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ شہر بنگلور میں بارش کی کمی کے سبب اکثر تالابوں میں پانی کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ حالانکہ مانسون کی ابتدا بھی ریاست میں تاخیر سے ہوئی،جس کے سبب کاشتکار طبقہ اپنی زرعی سرگرمیاں بروقت شروع نہیں کرپایا۔ مانسون کی شروعات کے بعد یکا دکا بارش ہوئی اور اس کے سبب بھی کسان طبقہ مایوس ہوگیا۔ کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر سوکھے ہوئے ہیں، پچھلے سال کے مقابل امسال کرشنا راجہ ساگر میں جمع پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہیماوتی آبی ذخیرہ میں پانی گزشتہ سال کی مقدار کے مقابل 20 فیٹ کم ہے۔ ماہرین نے کہاکہ اگست تک بھی اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان آبی ذخائر سے پینے کے پانی کی فراہمی بھی مشکل ہوسکتی ہے۔