ممبئی ۱۹؍ جنوری(ایس او نیوز/ جمعیۃ العلما پریس ریلیز) مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کی ضمانت عرضداشت کی سماعت کے دوران آج قومی تفتیشی ایجنسی NIA کو اس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ مداخلت کار کو ملزمہ کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کے دستاویزات مہیا کرائے ۔ ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس پھانسالکر جوشی کے روبرو ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ کی ضمانت عرضداشت پر ملزمہ کے وکلاء نے بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ قومی تفتیشی ایجنسی کی تازہ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ملزمہ کو اس معاملے میں اے ٹی ایس نے جھوٹا پھنسایا ہے نیز سپریم کورٹ نے بھی اپنے حکمنامہ میں یہ کہہ دیا ہیکہ ملزمہ کے خلاف مکوکا قانون کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا ۔
دفاعی وکلاء کی بحث کے بعد عدالت نے قومی تفتیشی ایجنسی NIA اور ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ ATS کو اپنے موقف کا اظہا رکرنے کو کہا جس کے بعد دونوں تحقیقاتی ایجنسیوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سادھوی کی ضمانت عرضداشت پر کو ئی اعتراض نہیں ہے اور عدالت اس کے سامنے موجود ثبوت و شواہد کی روشنی میں ملزمہ کی عرضداشت پر فیصلہ کرے ۔
دفاعی وکلاء اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے سادھوی کو کلین چٹ دیئے جانے کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء کے ساتھ حقوق انسانی کے لیئے کام کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس پر سخت حیرت ہے کہ اس معاملے میں استغاثہ دفاع کا کردار ادا کررہا ہے جبکہ اسے ملزمہ کی ضمانت عرضداشت کی اے ٹی ایس کی تفتیش کی روشنی میں سخت مخالفت کرنا چاہئے تھی ۔
ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی دستوں نے مداخلت کار کو ملزمہ کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کے دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت کو یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ان بم دھماکوں میں ( جس میں ۷؍ مسلم ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ) اس نے دیگر ملزمین کے ساتھ کیا کردار ادا کیا تھا ۔
پہلے تو تحقیقاتی دستوں نے مداخلت کار کو مطلوبہ دستاویزات مہیا کرانے سے انکار کیا لیکن پھر عدالت کی سخت ہدایت کے بعد معاملے کی اگلی سماعت یعنی ۳۱؍ جنوری سے قبل مداخلت کا ر دستاویزات مہیا کرانے کا یقین دلایا۔
ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے بتایا کہ ملزمین کے اقبالیہ بیانات، گواہوں کے بیانات، ملزمین کے موبائل فون کی تفصیلات جیسے اہم دستاویزت موصول ہوجانے کے بعد وہ عدالت کو اچھے ڈھنگ سے یہ بتا یائیں گے کہ ان بم دھماکوں میں ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کا کیا کردار رہا ہے ۔
ایڈوکیٹ دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی ضمانت عرضداشت کو سپریم کورٹ سے لیکر نچلی عدالتوں نے متعدد مرتبہ مسترد کردیا ہے کیونکہ اس کے خلاف پختہ ثبوت موجود ہیں اور اگر ملزمہ کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ اس کے خلاف موجود ثبوت وشواہد کو مٹانے کی کوشش کرے گی نیز خراب صحت ضمانت کی وجہ نہیں ہوسکتی کیونکہ حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ نے سابق ریاستی وزیر چھگن بھجبل کی ضمانت مسترد کردی تھی اوران کا جیل میں ہی علاوج و معالجہ جاری ہے ۔
آج دن بھر چلی کارروائی کے دوران ممبئی ہائی کورٹ وکلاء وصحافیوں سے کھچاکچ بھری ہوئی تھی ایک جانب جہاں بھگواء دہشت گردوں کے دفاع میں ایک درجن سے زائد وکلاء موجود تھے و ہیں متاثرین کی پیروی کرنے کے لیئے جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کیئے گئے وکلاء ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ نعیمہ شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ شازیہ شیخ و دیگر موجود تھے ۔
قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی جانب سے ایڈیشنل سالسٹرجنرل انیل سنگھ عدالت میں حاضر ہوئے تھے جبکہ اے ٹی ایس کی نمائندگی کے لئے بھی وکلاء موجود تھے جنہوں نے اس معاملے میں عدالت سے گذارش کی کہ وہ اس کے سامنے موجود ثبوت وشواہد کی روشنی میں کوئی فیصلہ کرے ۔