نئی دہلی،23نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)لوک پال کی تقرری میں ہو رہی تاخیر کو لے کر داخل عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہاکہ لوک پال ایکٹ 2014میں بنا تھا، اب تک عمل مکمل کیوں نہیں ہوا۔لوک پال کی تقرری کیوں نہیں ہوئی۔سپریم کورٹ اس طرح لوک پال کی تقرری میں تاخیر ہوتے نہیں دیکھ سکتا ہے۔لوک پال کو ایک ڈیڈ لیٹر نہیں بننے دیاجاناچاہئے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ آپ ایمانداری لانے کے لئے اپنی دلچسپی دکھاتے ہیں لیکن لوک پال بل میں ترمیم کیوں نہیں لا رہے ہیں۔مرکزی حکومت کو اس کے لئے کوئی ڈیڈ لائن طے کرنی ہوگی۔وہیں اس معاملے میں مرکزی حکومت نے کہا کہ لوک پال ایکٹ میں ترمیم کرنا ہے،اس کے لئے بل پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے۔ایکٹ کے مطابق سرچ کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر ہونا چاہئے لیکن ابھی کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں ہے تو سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو کمیٹی میں شامل کرنے کیلئے ایکٹ میں ترمیم کرنا ہے اور یہ پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے،معاملے پر اگلی سماعت 7دسمبر کو ہوگی۔اس سے پہلے اس وقت یوپی اے حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وہ لوک پال کی تقرری سے متعلق متنازعہ مسائل پر غور کرنا چاہتی ہے اور لوک پال قانون کی دو دفعات میں ترمیم کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔