نئی دہلی26نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)لوک سبھاانتخابات اورریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ساتھ ساتھ کرنے کے خیال کو’’بہترین سوچ‘‘قرار دیتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے آج کہا کہ اس نظام کو لاگو کرنے سے پہلے رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو کئی مسائل کاسراغ لگانا ہوگا۔قریشی نے کہا کہ اگر حکومت مرکزی پولیس فورسز کے مزید بٹالین بنانے میں زیادہ سرمایہ کاری کرے توکمیشن انتخابات کرانے میں لگنے والے وقت کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔’’ون نیشن، ون الیکشن‘‘نامی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس دعوے کو’’بڑھاچڑھاکر کیا گیا‘‘دعویٰ قرار دیا جس میں کہاجاتاہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذہونے کی صورت میں پالیسی ساز معاملات کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو یقینی بنانے کیلئے نئے پالیسی فیصلے کا اعلان نہیں کرنا چاہئے کہ سب کیلئے یکساں مواقع پیدا ہو سکیں۔قریشی نے کہا کہ جب انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں توذات اور مذہب کا مسئلہ سامنے آ جاتا ہے اور الیکشن کے بعد یہ مسئلہ غائب ہوجاتاہے۔