پٹنہ،8؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بہار قانون ساز کونسل میں حزب اختلاف کے لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آر جے ڈی صدر لالو پرساد کے اہل خانہ کی غیر اعلانیہ جائیدادکے طورپر زیر تعمیر 750 کروڑ روپے کی شاپنگ مال کی تحقیقات کیلئے ریلوے کے وزیر سریش پربھو سمیت سی بی آئی، انکم ٹیکس اور ای ڈی سے درخواست کریں گے۔ سشیل کمار مودی کا الزام ہے کہ وزیر ریل رہتے لالو پرساد نے رانچی اور ریلوے کے ہوٹل آپریٹر ہرش کوچر کو دلوانے کے بدلے میں پٹنہ میں زمین لی تھی، اسی پر شاپنگ مال بن رہا ہے۔ اس مال پر رابڑی دیوی اور ان کے دو بیٹوں، نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو اور جنگلات و ماحولیات کے وزیر تیج پرتاپ یادو مالک اور شیئرہولڈر ہیں۔ ان تینوں نے ممبر اسمبلی کے طور پر اس مال کی زمین کا مالک ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ رابڑی ممبر قانون ساز کونسل اور دونوں بیٹے اسمبلی کے رکن ہیں۔سشیل کمار مودی نے ہفتہ کو یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں لالو پرساد کو دوبارہ للکارا کہ وہ اعلان کریں کہ زیر تعمیر شاپنگ مال ان کے خاندان کا نہیں ہے۔ اسی مال کی مٹی کھپانے کے لئے پٹنہ کے چڑیا گھر میں فٹ پاتھ بنانے کے لئے 90 لاکھ کا منصوبہ بنی، بغیر ٹینڈر خریدی گئی ہے۔ جنگلات و ماحولیات کے وزیر تیج پرتاپ کی مٹی خریداری گھوٹالے میں ملوث ہونے کی وجہ سے پہلے انہیں وزارت سے برخاست کرنے کی مانگ کی تھی، ابھی غیر اعلانیہ پراپرٹی کے طور پر حاصل مال کو لے کر نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو کو بھی برخاست کیا جانا چاہئے۔ ریلوے کے ہوٹل فروخت میں مال کی زمین لینا براہ راست بدعنوانی کا معاملہ بنتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ریلوے کے وزیر سریش پربھو سے بھی ریلوے کے ہوٹل کے فروخت کے معاملے کی گہرائی سے جانچ کرانے کی درخواست کریں گے۔حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا کہ ان کے پاس لالو کے اہل خانہ کے غیر قانونی جائیداد ہونے کا پختہ ثبوت ہے، وہ ہتک عزت کا مقدمہ سے ڈرنے والے نہیں ہیں، اب بھی میرا چیلنج ہے کہ لالو یا ان کے بیٹے میرے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کریں۔